سول اسپتال مری میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی حاضری بہتر بنانے سے متعلق وزیر اعلٰی پنجاب کے دعوے ، وعدے اور احکامات دھرے رہ گئے۔مریض بدستور پریشان،لواحقین رل گئے۔ کوئی سننے والا نہیں۔
تفصیلات کے مطابق نگران وزیر اعلی پنجاب نے صوبائی وزیر اطلاعات عامر میر کے ہمراہ گذشتہ ماہ اچانک تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال مری کا دوہ کیا تھا اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر جمال ناصر کو پانچ دن مری میں رہ کر تمام مسائل حل کرنے کی ہدایت کی تھی جبکہ نئے توسیعی منصوبے سمیت 15جولائی تک ڈایئلاسز یونٹ فعال کرنے کی بھی نوید سنائی گئی تھی، لیکن یہ سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ،صرف اتنا فرق پڑا کہ چند نرسز اور ڈاکٹر ہفتہ میں دو تین دن کے لیے عارضی طور پر راولپنڈی سے چند گھنٹوں کے لیے آتے ہیں ،وہ بھی جلد ہی واپس چلے جاتے ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ ہسپتال کے تمام معمولات پہلے کی طرح چل رہے ہیں۔ مریضوں کو اسی طرح راولپنڈی اور اسلام آباد ریفر کر دیا جاتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق تین روزہ قبل ایک مریضہ کو زچگی کے حوالے سے راولپنڈی ریفر کیا گیا جو مبینہ طور پر رش میں پھنس گئی جس سے اس کا بلڈ پریشر اس قدر بڑھ گیا کہ اس کے دونوں گردے فیل ہو گئے بچہ پیدا ہونے سے قبل ہی مر گیا اور مریضہ زندگی اور موت کی کشمکش میں اس وقت ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کے آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر ہے۔
واضح رہے کہ قبل ازیں مری کی معروف شخصیت شفیق وانی بھی اپنی حاملہ زوجہ کولےکر سول ہسپتال مری پہنچے جہاں ان کو کہا گیا کہ دودن بعد مریضہ کو ہسپتال لائیں لیکن اسی روز رات کو اچانک مریضہ کی حالت خراب ہوئی جس پر ریسکیو1122 کوکال کرکے بلوایاتو اس دوران بچے کی پیدائش ہو گئی۔ عوامی حلقوں نے نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی سے مری ہسپتال کے معاملات کے حوالے سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا ہے.
