لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے زرعی اراضی فوج کو نہ دینے سے متعلق سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کردیا۔
پیر کے روزجسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے پنجاب حکومت کی اپیل پر سماعت کی۔پصوبائی حکومت کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا تھا کہ سنگل بینچ کے فیصلے میں تضاد ہے، درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہیں ، نیز یہ کہ زرعی پالیسیوں کو ریگولیٹ کرنا عدالتوں کی ذمہ داری نہیں۔
اپنے موقف میں پنجاب حکومت کا کہنا تھا کہ سنگل بینچ نے فوج کو زمین دینے کے نوٹیفکیشن کو قانون کے برعکس کالعدم قرار دیا، قانون کے مطابق نگران حکومت سابقہ حکومت کے کسی نامکمل اقدام یا پالیسی کی تکمیل کرسکتی ہے، یہ منصوبہ نگران حکومت نے نہیں بلکہ اس سے پہلے منتخب حکومت نے شروع کیا تھا۔
واضح رہے کہ مارچ میں لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے سرکاری زمین فوج کو کارپوریٹ ایگریکلچر فارمنگ کے لیے 30 سال کی لیز پر دینے سے روک دیا تھا۔لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے زرعی اراضی فوج کو نہ دینے سے متعلق سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کردیا۔
