راولپنڈی کے سرکاری اسپتال سے اغوا ہونےوالی نومولود بچی پولیس نے تلہ گنگ سے برآمد کر کے والدین کے حوالے کر دی۔
اس حوالے سے موصولہ تفصیلات کے مطابق پولیس تھانہ وارث خان کو راولپنڈی کے بے نظیر ہسپتال کی نرسری میں رکھی گئی بچی کی گمشدگی کی اطلاع ملی تھی جس پر پولیس متحرک ہو گئی، اور دوران تفتیش سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی گئی اور اس کے مطابق ملزمان کا پیچھا کیا گیا جس کے بعد گمشدہ بچی تلہ گنگ سے برآمد کر لی گئی۔
دوسری طرف ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایک خاتون غلطی سے دوسری بچی اٹھا کر لے گئی تھی،جسے پولیس نے بازیاب کرا کر والدین کے سپرد کر دیا۔
قبل ازیں تھانہ وارث خان پولیس کو راولپنڈی کے علاقےکلر سیداں کے رہائشی ظفر علی نے مقدمہ درج کراتے ہوئے بتایا کہ میری بیٹی میمونہ کے ہاں 14جولائی 2023کو بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی میں ایک بچی کی پیدائش ہوئی جو سانس کی دشواری کی وجہ سے چائلڈ نرسری میں منتقل کر دی گئی، ظفر نے بتایا کہ بچی کو وقتا فوقتا” اہل خانہ نرسری میں جا کر چیک کرتے رہے،
15جولائی کو دن12 بجے میں نے نرسری میں جا کر بچی کو چیک کیا تو بچی چائلڈ نرسری میں موجود تھی تاہم دوبارہ سہ پہر 2 بجے نرسری میں گیا تو سکیورٹی گارڈ اور آیا نے واپس بھیج دیا اور کہا کہ شام 5 بجے آجاؤ ابھی ڈاکٹر بچوں کو دوا دے رہے ہیں، پھر جب میں ساڈھے چار بجے نرسری میں گیا تو پتا چلا کہ کوئی شخص اور عورت دھوکے سے نرسری سے نومولود بچی کو اغواء کر کے لے گئے ہیں، پولیس نے اغواء کی دفعا ت کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا تھا۔ سی پی او سید خالد ہمدانی نے ایس پی راول، ایس ڈی پی او وارث خان اور وارث خان پولیس کی کارکردگی کی تحسین کی ہے۔
گزشتہ جولائی میں بھی بے نظیر ہسپتال سے بچہ اغواء کیا گیا تھا
ماضی میں بھی راولپنڈی کے ہسپتالوں سے بچوں کے اغواء کی وارداتیں ہوتی رہیں ہیں،گزشتہ سال 27جولائی کو2022 کوبھی بے بظیر بھٹو ہسپتال سے تین ماہ کے بچے موسی کو ہسپتال کی او پی ڈی سے ایک خاتون نے اغواء کر لیا تھا، جس پرراولپنڈی پولیس نے اغواء کار خاتون اور اس کے ساتھی کو گرفتار کر کے بچے کو والدین کے حوالے کر دیا تھا، اس سے قبل31 اکتوبر 2021کو بھی راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال سے ایک دن کے بچے کو اغواء کرنے کے بعد اس کی جگہ ایک پلاسٹک کی گڑیا کو رکھ دیا گیا تھا، اغواء کار لڑکی چار نومبر 2021کو ڈھوک سیداں کے علاقے میں واقع ایک نجی ہسپتال بچے کو چھوڑ کر فرا ر ہو گئی تھی، اس واقعے میں ہسپتال کے عملے کے چھ ملازمین کو معطل بھی کیا گیا تھا۔


