عید الاضحی کے موقع پر سیاح نیلم پوائنٹ پر امڈ آئے۔مختلف شہروں سے سیاحوں کی بڑی تعداد نے کوہالہ کے قریب واقع پکنک پوائنٹ "کنیر پل” کا رخ کیا
جو نیلم پوائنٹ کے نام سے مشہور ہے اور دریائے جہلم کے کنارے لہروں کے ساتھ اٹھکیلیاں کر کے خوب لطف اندوز ہوئے۔
واضح رہے کہ نیلم پوائنٹ کے مقام پر پاکستان اور آزاد کشمیر کو ملانے والا پل واقع ہے جو کوہالہ پل کے متبادل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔1992 کے قیامت خیز سیلاب میں کوہالہ پل ٹوٹ کر دریا برد ہو گیا تھا
جس کے بعد کئی برس تک لفٹ کے ذریعے پاکستان اور ازاد کشمیر کے درمیان مسافر سفر کرتے رہے
اور ایک عارضی پل گاڑیوں کے لیے بنایا گیا تاہم اب نیلم پوائنٹ پر ایک مضبوط پل قائم ہے جس پر ہر وقت گاڑیوں کی امد و رفت جاری رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں سیاحوں کے مری داخلے پر پابندی، گاڑیوں کی لمبی قطار یں
نیلم پوائنٹ پر موجود یہ سیاحتی مقام گزشتہ کئی برس سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں ملک بھر کے مختلف شہروں سے سیاح آتے اور دریا کے کنارے چارپائیوں پر بیٹھ کر ماحول کا لطف اٹھاتے ہیں۔
محکمہ سیاحت یا ضلعی انتظامیہ اس جانب توجہ نہیں دے رہی
یہ امر قابل ذکر ہے کہ مقامی لوگوں نے اپنی مدد اپ کے تحت اس سیاحتی مرکز کو کھانے پینے کے اسٹالز اور دیگر لوازمات سے اراستہ کیا ہوا ہے تاہم محکمہ سیاحت یا ضلعی انتظامیہ اس جانب توجہ نہیں دے رہی، جس کی وجہ سے آئے روز اوور چارجنگ سمیت کئی قسم کی شکایات پیدا ہوتی رہتی ہیں اور اس کے نتیجے میں لڑائی جھگڑے کے باعث اس خوبصورت سیاحتی مقام کا ماحول بھی خراب ہوتا ہے۔کوہسار نیوز کے سروے کے دوران دیکھنے میں آیا کہ عید کے موقع پر سینکڑوں کی تعداد میں سیاحوں کی موجودگی کے باوجود یہاں کوئی پولیس اہلکار نگرانی پر مامور نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں قرآن کو آگ لگانا اشتعال انگیز اقدام ہے،یورپی یونین
فوڈ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ محکمے بھی کھانے پینے کی اشیاء کے ریٹس چیک کرنے کی زحمت نہیں کرتے جبکہ پولیس اہلکار مبینہ طور پر مٹھی گرم ہونے پر خاموش رہتے ہیں۔ چنانچہ چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے باعث فوڈ آئٹمز کہ من مانے ریٹس وصول کیے جاتے ہیں جبکہ سیاح فیملیز ساتھ ہونے کی وجہ سے خاموشی سے ادائیگی کر کے واپس آجاتے ہیں۔
سیاحتی مقام پر عام مارکیٹ سے زیادہ ریٹس وصول کیے جاتے ہیں
واضح رہے کہ کسی بھی سیاحتی مقام پر عام مارکیٹ سے زیادہ ریٹس وصول کیے جاتے ہیں تاہم اس کی زیادہ سے زیادہ حد متعین کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔نیلم پوائنٹ کے معاملے میں بھی مری گلیات اور دیگر ملحقہ سیاحتی مقامات کی طرح انتظامیہ کا کوئی خاص کردار نظر نہیں آتا۔ ایک اور اہم معاملہ جس میں انتظامیہ کی نااہلی صاف نظر اتی ہے، کسی قسم کی سیکیورٹی یا گائیڈ نہ ہونے کا ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات سیاح دریائے جہلم کی بے رحم لہروں کی نذر بھی ہو جاتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کے پی حکومت اور محکمہ سیاحت اس حوالے سے مربوط حکمت عملی تیار کرے اور سیاحوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں فوڈ اسٹالز سمیت دیگر کاروبار کرنے والے افراد کو بھی ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں۔


