ہمارے ہاں آئے روز بڑھتی ہوئی شدت پسندی کا رونا بہت رویا جاتا ہے۔ ہماری اکثریت چاہتی ہے کہ تحمل اور برداشت والا ماحول پھر سے لوٹ آئے۔ لوگ پھر سے باہم مل جل کر رہیں۔ لیکن کیا وہ ماحول صرف ہمارے چاہنے سے لوٹ کر آ سکتا ہے؟
یہ معاملہ بہت گھمبیر ہے۔ ہمیں شدت پسندی کے محرکات جاننے کی کوشش کرنا ہو گی۔ اس کے نفسیاتی عوامل پر غور کرنا ہو گا۔ اپنی ذات، اپنے گھر اور اپنے ماحول میں مکالمے کا ماحول پیدا کرنا ہو گا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ شدت پسندی صرف پاکستان میں ہے۔ حال آنکہ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ ہندوستان میں کئی جماعتیں انتہا پسندی میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں۔ یہودیوں کی انتہا پسندی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ہماری شدت پسندی کا ایک پہلو بہرحال بہت اذیت ناک ہے۔ یعنی ہم کسی کے خلاف نہیں ، اپنے خلاف لڑ رہے ہیں۔
میں ورغلایا ہوا لڑ رہا ہوں اپنے خلاف
میں اپنے شوق شہادت میں مارا جاؤں گا
رانا سعید دوشی
شدت پسندی اور انتہا پسندی کے سارے محرکات کا جائزہ لینے کے لیے تو کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ لیکن ایک نکتہ یہ ہے کہ جس معاشرے میں مکالمے کی روایت ختم ہو جاتی ہے وہاں سے نتیجتا تحمل اور برداشت بھی عنقا ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی اور مذہبی دھڑے ایک دوسرے پر الزام، تہمتیں اور بھتان لگاتے ہوئے ذرا بھی نہیں جھجکتے کہ یہ مہذب انسان کے وقار کے منافی ہے۔
ایک مسلمان کے لیے تو یہ امر ناممکن ہونا چاہیے کہ وہ جانتے بوجھتے ہوئے حق و صداقت کو تسلیم نہ کرے یا کسی پر بہتان باندھے۔ دکھ اور تاسف کا مقام یہ ہے کہ مکالمہ مفقود ہونے کی وجہ سے شدت پسندی نے سارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ وہ اہل مذہب ہوں کہ اہل سیاست اختلاف برداشت کرنا تو دور کی بات ہے اب ایک دوسرے کا موقف سننا ہی گوارا نہیں کرتے۔
اہل مذہب کے ہاں مسلکی اختلاف کی بنیاد پر اپنے سوا باقی سارے مسالک پر کفر کا فتویٰ لگانا معمول بن گیا ہے۔ اہل سیاست کے ہاں اب کسی قسم کا کوئی ضابطہ اخلاق باقی نہیں بچا۔ کٹھ پتلیاں ہیں جو اسٹبلشمنٹ کے اشاروں پر ناچ رہی ہیں، اندھا دھند کرپشن کر رہی ہیں اور ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہی ہیں۔
لمحہ فکریہ ہے کہ ہم نئی نسلوں کی کیا ذہن سازی کر رہے ہیں۔
ہمارا نظام تعلیم تو خود غرضی اور مادیت پرستی سکھانے کے سوا کچھ نہیں کرتا۔ ہمارے ہاں تعلیم کا یک نکاتی مقصد "اچھی نوکری” ہے۔ اس لیے معاشرے میں تھوک کے حساب سے "اچھے نوکر” پیدا ہو رہے ہیں۔
اخلاصِ عمل مانگ نیا گانِ کُہن سے
’شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را!‘
۔۔۔۔ علامہ اقبال


