صدر پیوٹن کی حکومت کی کامیاب حکمت عملی کے باعث روس میں نیم فوجی یا غیر فوجی بغاوت محض چند گھنٹے کی مہمان ثابت ہوئی، اور بیلا روس کی مداخلت اور مدد سے مذاکرات کے نتیجے میں باغیوں کے سربراہ نے اپنی فورس کو کیمپوں میں واپس جانے کا حکم دے دیا، تاہم صدر پیوٹن نے واضح کیا ہے کہ غداری کرنے والوں کو ان کے کئے کی سزا بھگتنا ہو گی۔
باغی گروہ کے سرغنہ ویگنر گروپ کے سربراہ اور روسی صدر پیوٹن کے سابق شیف یووگنی پری گوزن اپنے باس کے ساتھ
بغاوت کرنے والے ویگنرگروپ کے سربراہ اور روسی صدر پیوٹن کے سابق شیف یووگنی پری گوزن نے ماسکو کی طرف پیش قدمی روکنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے جبکہ اپنے گروپ کے لوگوں کے تحفظ کی ضمانت مانگ لی ہے ، اس حاوالے سے معاہدے پر رات گئے تک بات چیت جاری تھی۔ یووگنی پری گوزن نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم خون خرابے سے بچنے کے لیے اپنے دستے واپس بلا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ ایک غیر فوجی کرائے کی ملیشیا ہے جو روسی افواج کے ساتھ مل کر یوکرین کیخلاف جنگ میں مصروف ہے، اس گروہ کے سربراہ کے روسی وزیر دفاع کے ساتھ شدید اختلافات ہیں ، اور تازہ ترین واقعے میں اس گروپ نے الزام لگایا ہے کہ روسی افواج نے دشمن کے بجائے خود ان کے لوگوں پر بمباری کی ہے۔روسی طیاروں کی بمباری سے ہلاکتوں پر یوکرین میں لڑنے والی نجی فورس مشتعل ہوگئی جس پر انہوں نے روسی فوج کیخلاف لڑائی شروع کر دی اور روس کا ایک ہیلی کاپٹر بھی مار گرایا ۔ دوسری طرف روسی فوج کی مدد کیلئے چیچن جنگجو دستے بھی پہنچ گئے تھے اور انہوں نے باغی فورس کیخلاف لڑائی شروع کر دی تھی۔
روسی فوج اور کرائے کی ویگنر فورس کے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی میں اضافے کے بعد روس میں سیکورٹی سخت کر دی گئی، انٹرنیٹ پر پابندی لگا دی گئی اور ماسکو کی سڑکوں پر فوجی ٹرک حرکت میں آ گئے تھے۔ دوسری طرف قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سینٹ پیٹرزبرگ میں ویگنر کے دفتر پر چھاپہ مارا تاہم گرفتاریوں کے حوالے سے تفصیل نہیں مل سکی۔
ویگنر گروپ کے سربراہ یووگنی پری گوزن نےالزام لگایا تھا کہ روسی وزارت دفاع اپنے ہی فوجیوں کو مارنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ مبینہ میزائل حملے میں ویگنر فوجیوں کی ہلاکت میں روسی وزارت دفاع کا ہاتھ ہے ان کے ویگنر جنگجو یوکرین سے روس کی سرحد عبور کر چکے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے آدمی راستے میں کھڑے ہونے والے ہر شخص کو ختم کر دین گے ۔انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ویگنر کے جنگجو روستوف کی ناکہ بندی کر کے ماسکو کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔پری گوزن نے دعویٰ کیا کہ ان کی فورسز نے ایک روسی فوجی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے جس نے ایک شہری قافلے پر فائرنگ کی تھی۔
باغیوں کیلئےصدر پیوٹن کا سخت پیٖغام
ویگنر جنگجوؤں کی بغاوت کے بعد روسی صدر ولادمیر پیوٹن نے اعلان کیا کہ غداروں کو سخت سزا دی جائے گی۔انہوں نے ٹی وی خطاب میں اعلان کیا کہ روس کے دفاع کا عہد کرتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احکامات دے دیے گئے ہیں۔صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ روس کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے، کچھ لوگوں کے ’عزائم‘ ’غداری‘ کا باعث بنے ہیں۔ روسی صدر نے روس کے دفاع کے لیے لڑنے پر ویگنر گروپ کے جنگجوؤں کی تعریف بھی کی


