کوہسار کی تاریخ کے حوالے سے سائنسی بنیادوں پر تحقیقی کام کرنے کی جانب میں گاہے بہ گاہے اہل علم و دانش کی توجہ مبذول کرواتا رہتا ہوں۔ ایک بار پھر درخواست گزار ہوں کہ ایک ٹیم تشکیل دے کر کوہسار کی ایک ایسی مستند تاریخ لکھی جائے جس کا انحصار سینہ بہ سینہ چلنے والی روایات کے بہ جائے اس عہد کی کتب، مسودوں اور خطوط کے علاوہ سرکاری دستاویزات میں موجود معلومات اور حقائق پر ہو۔
جیسا کہ اکثر باشعور احباب اپنی تحریر و تقریر میں برملا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ اہل زر کی ہوس مال و زر نے جنت مثال کوہسار کے حسن کو برباد کر کے رکھ دیا ہے. لیکن اس طاقت ور مافیا کے خلاف کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جا سکا۔
میں جب قائد اعظم یونیورسٹی کا طالب علم تھا، اس وقت میں نے قومی اخبارات میں اہل کوہسار کے آبائی زمینیں فروخت کرنے کے خلاف کالم اور مضامین لکھے تھے۔ مجھے شدید دکھ ہوتا تھا کہ اہل کوہسار وقتی فائدے کے لیے اور زمینوں کے دام زیادہ ملنے کی وجہ سے بہ سرعت آبائی زمینیں فرخت کر رہے تھے (اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے)۔ میں نے واضح طور پر تنبیہہ کی تھی کہ کچھ سال گزرنے پر اہل کوہسار کو اپنی اس غلطی پر نہ صرف پچھتاوا ہو گا بلکہ آئندہ نسلیں ہماری اس مجرمانہ غفلت کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔ نشان دہی کیے گئے مسائل میں سے اکثر اب منہ کھول کر ہمارے سامنے کھڑے ہیں اور چند ایک بچے ہوں گے جو بتدریج سامنے آتے جائیں گے۔
جب ہم نے بلا سوچے سمجھے اہل جاہ و حشم کو اپنے خوب صورت کوہسار کا مالک بنا دیا۔ آبائی زمینیں باہر کے لوگوں کو فروخت کر دیں۔ اب بہ حیثیت مالکان ان کی مرضی ہے کہ وہ ہماری روایتوں کا جنازہ نکالیں یا انھیں پاؤں تلے روند ڈالیں۔
ہم کسی بھی ناروا رویے کے خلاف احتجاج کر سکتے ہیں یا قانون سے مدد لینے پر مجبور ہیں اس کے علاوہ ہمارے بس میں کچھ نہیں ہے۔
ایک متبادل راستہ ہمیں ایم ڈی ایف اور رفاہ ڈویلپمنٹ فورم نے سجھایا ہے۔ اگر ان لوگوں کے دست و بازو بن کر سارا کوہسار کھڑا ہو جائے تو چند سالوں میں پڑھا لکھا، تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال، خود انحصاری کا حامل کوہسار تشکیل پا سکتا ہے۔
ایم ڈی ایف، آر ڈی ایف اور دیگر سماجی اور فلاحی تنظیموں کو کوہسار کو جنت نظیر بنانے کے لیے ایک "کوچہ علم و دانش” کی بنیاد رکھنی چاہیے۔
اگر اس "دار الحکمت” کے لیے حکومت سرکاری زمین سو سالہ لیز پر دے دے تو ملک بھر کی نابغہ روزگار علمی شخصیات کے لیے پانچ مرلہ کے خوبصورت گھر سماجی تنظیمیں مل کر تعمیر کر سکتی ہیں۔ کل لاگت پر صرف دس فی صد منافع رکھ کر یہ گھر طے شدہ فہرست کے مطابق ان شخصیات کے حوالے کر دیے جائیں۔
لیکن ایک شرط ہو کہ یہ گھر ناقابل فروخت ہوں گے
دوسری صورت یہ ہے کہ حکومت شہر علم قائم کر کے میرٹ پر نابغہ روزگار علمی شخصیات کو پانچ پانچ مرلہ کے مفت پلاٹ الاٹ کر دے، جو ناقابل فروخت ہوں۔
مکانات کی تعمیر کے لیے بلا سود اور آسان شرائط پر قرضوں کی سہولت مہیا کی جائے۔
"دارالحکمت” میں کمیونٹی ہال تعمیر ہو جہاں اہل علم و دانش سے روزانہ کی بنیاد پر نوجوانوں کو مستفید ہونے کا موقع ملے۔
ایک لائبریری بھی موجود ہو جس میں روایتی کتب کے علاوہ ڈیجیٹل کتابیں بھی دستیاب ہوں تاکہ تحقیق و مطالعہ کے ماحول کا احیاء ہو۔
اہل کوہسار میں سے پراپرٹی، کاروبار اور تعمیرات کے حوالے سے ملکی سطح پر نام رکھنے والے احباب کو بھی اس سلسلے میں کوئی غیر منافع بخش منصوبہ شروع کرنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔










