یونان میں المناک حادثے کا شکار ہونے والی کشتی میں سوار پاکستانی شہریوں سے غیر انسانی سلوک کیا گیا۔ اس بات کا انکشاف برطانوی اخبار دی گارجین نے کیا ہے جس کی رپورٹ کے مطابق حادثے میں زندہ بچ جانے والے تارکین وطن نے بتایا کہ پاکستانیوں کو جبری طور پر ماہی گیر کشتی کے سب سےنچلے حصے میں رکھا گیا جبکہ دیگر ملکون کے مسافروں کو اوپر والے حصہ میں سوار کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ ماہی گیروں کیلئے مخصوص کشتی لیبیا سے یورپ کی طرف جا رہی تھی جس میں 750 سے 800 مسافر سوار تھے۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یونانی کوسٹ گارڈ نے بھی اس سانحے میں منفی اور غیر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔رپورٹ کے مطابق پاکستانی شہری جب پانی پینے کشتی کے اوپروالے حصے میں آتے تو ان پر تشدد کیا جاتا ، دی گارجین نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کشتی حادثے میں 298 پاکستانی جبکہ 135 آزاد کشمیر کے نوجوان جاں بحق ہوئے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے بتایا تھا کہ اب تک 78 تارکین وطن جاں بحق ہوئے ہیں، جبکہ12پاکستانی زندہ بچ گئے ہیں، کوسٹ گارڈ کو ایک تارک وطن نے ابتدائی تفتیش میں بتایا کہ ہم نے جمعے کو علی الصبح سفر شروع کیا، تقریباً 700 افراد کشتی میں سوار تھے، ہم تین دن سے سفر کر رہے تھے اور پھر انجن خراب ہو گیا۔
وزیر اعظم نے چار رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنا دی
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے یونان کشتی حادثے کی تحقیقات کی ہدایت کی ہے اور اس کیلئے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ کمیٹی ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرے گی۔نیشنل پولیس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل احسان صادق کمیٹی کے چئیرمین مقرر کیے گئے ہیں جب کہ وزارتِ خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری (افریقہ) جاوید احمد عمرانی، جموں وکشمیر پونچھ ریجن کے ڈی آئی جی سردار ظہیراحمد اور وزارتِ داخلہ کے جوائنٹ سیکریٹری فیصل نصیر کمیٹی میں شامل ہیں۔ علاوہ ازیں ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل عالم شنواری کو فوکل پرسن مقرر کر دیا گیا ہے۔

