نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علامہ اقبال
لیڈر صرف دو کام کرتا ہے۔
- وژن دینا
- اس وژن کو(actualize) عملی حقیقت میں ڈھالنا۔
لیڈر کے پاس ایک وژن یا خواب ہوتا ہے۔ اس وژن کی عملی صورت گری کے لیے اسے مسلسل اور لگاتار جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔
وژن دینا لیڈرشپ کا اہم اور بنیادی کام ہوتا ہے۔ ایسا وژن جو لیڈر کے رفقائے کار ، اس کے پیروکاروں اور اس کے داٸرہ اثر کو متاثر اور متحرک کرسکے۔ وہ وژن یا خواب کیا ہوتا ہے؟ ایک بہتر کل ، بہتر مستقبل اور بہتر دنیا کا خواب ۔۔۔
یہ وژن سوتے ہوٸے خواب میں نہیں آتا نہ ہی کسی صبح حادثاتی طور پر تکیے کے نیچے سے برآمد ہوتا ہے۔
وژن لیڈرشپ کو اپنے حالات ، ماحول اور سماج کے گہرے مطالعے اور مشاہدے کی بدولت حاصل ہوتا ہے۔
سیاسی تبدیلی کے خواہشمند لیڈر کو اپنے سماج کی تاریخ ، تہذیب و کلچر ، نفسیات ، عمرانیات اور فلسفے کو جاننا پڑتا ہے اور پھر اس کے نتیجے میں ایک بہتر دنیا کا خواب اس کے تخیل کی سکرین پہ نمودار ہوتا ہے۔
بڑے لیڈر کے پاس اپنا وژن ہوتا ہے تاہم اگر اسے اپنا وژن مستعار بھی لینا پڑے تو وہ اس کو گہرائی میں جاکر نہ صرف سمجھتا ہے بلکہ خود پہ طاری بھی کرتاہے۔ وژن کا حصول لیڈرشپ کے لیے زندگی اور موت جیسا مسئلہ ہوتا ہے۔۔۔۔
ایک اور نکتہ یہ بھی ہے کہ وژن کا حصول اکیلے ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ایک ٹیم درکار ہوتی ہے۔ ایک سمجھدار، باصلاحیت اور مخلص ٹیم جو لیڈر کے وژن کو اپنا لے اور اس کے حصول کے لیے ہرممکن کوشش کرے۔
لیڈرشپ کا دوسرا اہم کام وژن کی عملی صورت گری کرنا ہوتا ہے۔ یہ کام بیک وقت آسان بھی ہوتا ہے اور مشکل بھی۔ فارمولا بس یہ ہے کہ کام کیا جائے ، غلطیاں کی جائیں ، جلد از جلد کی جائیں ، انہیں سدھارا جائے اور ان غلطیوں سے سبق بھی سیکھا جائے اور انھیں دہرایا بھی نہ جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثاقب محمود عباسی
4 مٸی 2023، اسلام آباد


