اپریل بھی اس بار آگ برسارھا تھا.جس کی وجه سے رات بھی گرم تھی.شام کا آغاز ھی سورج کے ڈوبنے کے باوجود بہت برھمی لیے ھوۓ تھا.کچھ حالات کی تلخیاں بھی تپش بن کر بے کل کر رھی تھیں.
وه جیسے ھی اپنے تنہا کمرے میں داخل ھوا,دنیا جہاں کی محرومیاں اسکے گرد ناچنے لگیں. وه تھک کر بیٹھ گیا…دیوار سے ٹیک لگائی تو گرم دیوار نے پیٹھ ایسے جلائی گویا دل جلادیا ھو…زندگی سے بیزاری اسکے دل په سوار ھورھی تھی.وه بار بار اپنی کیفیت کو درست کرنے کی کوشش کرتا…مگر دل تھا که سنبھل ھی نھیں رھا تھا…”کیا غربت مجھے گھن کی طرح چاٹ کھاۓ گی??
کیا میرے مسائل جونک کی طرح مجھ سے چمٹے رھیں گے, کیا میں صرف ایک جلتا ھوا دیا ھوں جسکی لو بتدریج کم ھوتی جارھی ھے…
میں کیا ھوں??”
آه…سوچیں کتنی بے رحم ھوتی ھیں…مگر آج ھی کیوں اتنا مایوس ھورھا تھا وه…شائد تلخی اور اسکی زندگی کی آپس میں اب گہری دوستی ھوگئی تھی.
عام آدمی خاص لوگوں کے لیے ایسی لکڑی کی مانند ھے جسکو جلاکر وه اپنے تن کے لیے تپش اور توانائی حاصل کرتے ھیں. خاص لوگ عام لوگوں کا دکھ سمجھتے کیوں نھیں…انھیں جینے کا حق کیوں نھیں دیتے??
وه چیخنا چاھتا تھا…زور زور سے…ایسے که کمرے میں رکھی ھر چیز اس کی چیخ سے ھل کر ره جاۓ..وه رونا چاھتا تھا….ایسا رونا که بادل بھی بین کرنے لگ جائیں..
وه ھذیانی انداز میں چیخنے لگا…
اندر کہیں کسی نے سرزنش کی..آج ھی کیوں ھمت ھار رھے ھو..?وجه اسے معلوم نھیں تھی.کہانی کار کو بھی نھیں…بس قلم چل رھا تھا.اچانک نب ٹوٹ گئی…روشنائی رسنے لگی…اسے لگا اسکا خون رس رھا ھے.اور دھیرے دھیرے زندگی کی کتاب میں یه خون پھیلتا جارھا ھے…
بند آنکھوں کے ساتھ اس نے سوچا تھا..”کیا کوئی جان سکتا ھے, عام آدمی کیلیے زندگی کو برتنا کتنا کٹھن ھے..!!”
بشکریہ فیس بک
