سوشل میڈیا کے جدید اور ترقی یافتہ دور میں جب دنیا ایک حقیقی گلوبل ویلج کی شکل اختیار کر چکی ہے، گلیات، ایبٹ آباد اور کئی دیگر علاقوں میں عوام اب بھی بنیادی سہولیات کو ترس رہے ہیں جن میں سے ایک سڑکوں کی عدم دستیابی بھی ہے۔زیرِ نظر تصویر سے اس صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ یہ تصویر وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضی جاوید عباسی کے انتخابی حلقے کی ہے جس میں ایک زخمی مریض کو کرسی نما چارپائی سے باندھ کر لوگ کندھے پر اٹھا کر ہسپتال سے گھر کی طرف لے جا رہے ہیں جبکہ ان کے پیچھے درجنوں لوگ دشوار گزار پہاڑی راستے سے گزر رہے ہیں غور سے دیکھا جائے تو مریض کے ہاتھ پر کنولا لگا بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
اس صورت حال سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کے ترقیاتی منصوبوں اور ریلیف کے دعوے صرف کاغذوں میں موجود ہیں۔ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں کے لوگ اب بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق ایبٹ آباد میں حادثے کا شکار مریض کو گھر تک پہنچانے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔یو سی نگری ٹوٹیال اور میرا حسنال کے وسط میں واقع گاؤں منکواڑ بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔سڑک نہ ہونے کی وجہ سے مریض ذلیل وخوار ہو رہے ہیں۔
اسلام آباد میں حادثے کا شکار مریض محمد پرویز کو کرسی سے باندھ کر اسپتال گھر تک پہنچایا گیا۔اہل علاقہ نے وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضی جاوید عباسی سے سڑک کی فوری تعمیر کا مطالبہ کیا ہے۔

