پاکستان کا روس کے ساتھ سستے تیل کی خریداری کا معاہدہ طے پا گیا، جس کے بعد پہلا آرڈر بھی دے دیا گیا۔گذشتہ روز وزیر مملک پٹرولیم مصدق ملکنے بتایا کہ پاکستان کو ریفائنڈ کے بجائے خام تیل ملے گا۔ تاہم روسی تیل خریدنے کے لیے ڈسکاؤنٹ ریٹ ظاہر نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے موصولہ معلومات کے مطابق پاکستان نے روس کے ساتھ طے پانے والے ایک تازہ معاہدے کے تحت رعایتی نرخوں پر روسی خام تیل کی خریداری کا پہلا آرڈر دے دیاہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ روس سے آنے والا پہلا کارگو مئی میں کراچی بندرگاہ پر لنگرانداز ہوگا۔
مصدق ملک نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت پاکستان روس سے ریفائن فیول نہیں بلکہ صرف خام تیل خریدے گا، اگر لین دین کا پہلا مرحلہ باآسانی طے ہوجاتا ہے تو توقع ہے کہ روس سے آنے والی یہ درآمدات یومیہ ایک لاکھ بیرل تک پہنچ جائیں گی۔ انہوں نے کہا ’ہم نے آرڈر دے دیا ہے، ہم پہلے ہی اسے آرڈر دے چکے ہیں، ہاں یہ درست ہے کہ ہمیں ریفائنڈ تیل نہیں بلکہ صرف خام تیل ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر ’پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (پی آر ایل)‘ روسی خام تیل کو ریفائن کرے گی، دیگر ریفائنریوں کو ٹرائل رن کے بعد شامل کیا جائے گا۔
