راولپنڈی میں جرم سے نفرت کے جذبے نے ایک ایسے سبق آموز واقعے کو جنم دیا جس میں والدین نے جرم میں ملوث اپنے سگے بیٹے سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے اس کی لاش لینے سے انکار کر دیا۔ مذکورہ شخص ڈکیتی کے دوران اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والا مجرمانہ ریکارڈ کا حامل ڈاکو یوسف تھا جس کے والدین نے بیٹے کی نعش وصول کرنے سے انکار کر دیا ،
اس حوالے سےتھانہ سہالہ پولیس کا کہنا ہے کہ اپنے ہی ساتھی کی گولی کا نشانہ بننے والے یوسف کے خلاف ڈکیتی کے 17مقدمات درج ہیں جبکہ ڈکیتی کی ان وارداتوں کے دوران دو افراد کے قتل کا بھی الزام ہے۔ واقعے کی تفصیل کے حوالے سے سہالہ پولیس کو محمد ساجد نے بتایا کہ میں حماد ریڈرز کے نام سے کلر سید اں روڈ روات میں سپیئر پارٹس ہول سیل کا کاروبار کرتا ہوں۔ میں ،حمیر حسین ، شیر گل اور درویش وغیرہ دکان میں افطاری کے لیے بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران دو موٹر سائیکلسوار آئے،ان میں سے ایک نے ماسک اور دوسرے نے رومال نما کپڑا چہرے پر پہنا ہوا تھا، دکان میں داخل ہو کر ایک شخص نے پسٹل نکال کر ہمیں یر غمال بنا کر کاؤنٹر سے رقم نکال کر شاپنگ بیگ میں ڈالی اور حمیر اور شیر گل کے موبائل فون بھی چھین لئے۔واردات کے بعد ملزمان بھاگنے لگے تو شیر گل نے ایک ملزم کو قابو کر لیا تو اس ملزم کے دوسرے ساتھی نے اپنے ساتھی کو چھڑانے کے لیے فائرنگ کی۔ ایک گولی حمیر حسین کو دائیں ٹانگ پر لگی جبکہ ایک فائر ملزم کے ساتھی کو سر پر لگا جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا ۔
محمد ساجد کے مطابق اسی دوران فائرنگ کرنے والے ملزم کا پسٹل رک گیا تو ہم نے ملزم کو قابو کر لیا ۔فائرنگ کی آواز سن کر پولیس اہلکار بھی آگئے اور ملزم کو قابو کیا۔ ملزم نے دریافت پر اپنانام محمد علی اورہلاک ہونے والے ساتھی کا نام یوسف بتایا، سہالہ پولیس کے مطابق رات گئے ایک خاتون نے اپنے بھائی کے ہمراہ تھانے آ کر دعویٰ کیا کہ وہ یوسف کی بیوی ہے اور نعش وصول کر کے سپرد خاک کرنا چاہتی ہے۔
