دس اپریل کا دن جہاں سانحہ اوجڑی کیمپ کی وجہ سے راولپنڈی اسلام آباد اور گردونواح کے شہروں کے لوگوں کے لیے ایک قیامت خیز دن تھا ، وہیں یہ عباسی برادری کے لئے بھی ایک بہت بڑا سانحہ تھا جس میں خطہ کوہسار کی ہر دلعزیز سیاسی شخصیت اس وقت کے وفاقی وزیر پیداوار ،سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے والد اور سابق صدر جنرل ضیاءالحق کے قریبی دوست خاقان عباسی بھی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے جب ان کی چلتی گاڑی کو اوجڑی کیمپ سے نکلنے والے راکٹ نے نشانہ بنایا۔اس وقت گاڑی میں ان کے ہمراہ ان کے بڑے صاحبزادے اور شاہد خاقان عباسی کے بڑے بھائی زاہد عباسی بھی موجود تھے۔ گاڑی پر دو راکٹ گرے جس کے نتیجے میں خاقان عباسی تو موقع پر شہید ہوگئے جبکہ شاہد عباسی شدید زخمی ہوئے۔زاہد عباسی بعدازاں چودہ برس تک کومے کی حالت میں اسپتال میں زیر علاج رہے جس کے بعد 2002 میں ان کا انتقال ہوگیا۔
واضح رہے کہ دس اپریل انیس سو اٹھاسی کو رونما ہونے والے سانحہ اوجڑی کیمپ میں سو سے زائد افراد جاں بحق اور 1100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
صدر ضیاء الحق اس وقت اسلامی سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لئے کویت میں موجود تھے جبکہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو کراچی میں تھے جو فوری طور پر راولپنڈی پہنچے۔ ہر طرف راکٹوں اور میزائلوں کے گرنے کے نتیجے میں جڑواں شہروں میں قیامت صغریٰ کا منظر تھا۔ لوگ اپنے طور پر قیاس آرائی کر رہے تھے کہ بھارت یا اسرائیل نے حملہ کر دیا ہے۔
دس اپریل کی شام قومی اسمبلی میں وزیر پارلیمانی امور اور انصاف وسیم سجاد نے ایک بیان پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا کہ فوج کے بارود کے ذخیرے میں اس وقت آگ لگ گئی ، جب ایک ٹرک سے بارودی مواد استعمال ہر جا رہا تھا۔
خاقان عباسی۔۔ خطہ کوہسار کے مسیحا
شاہد خاقان عباسی کے والد خاقان عباسی کو خطہ کوہسار کے لوگ ایک مسیحا کے طور پر جانتے ہیں، جنہوں نے ناصرف اپنے حلقے میں بے شمار ترقیاتی کام کرائے بلکہ جہاں کہیں بھی عوام کو کوئی مسئلہ درپیش ہوا یا ان کے نوٹس میں لایا گیا تو انہوں نے اسے حل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔یہی وجہ ہے کہ وہ کئی بار مری کہوٹہ کے انتخابی حلقے این اے 36 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوتے رہے ہیں اور بعد ازاں ان کے صاحبزادے شاید خاقان عباسی کو بھی عوام نے اسی طرح پذیرائی بخشی۔
واضح رہے کہ خاقان عباسی سابق صدر جنرل ضیاءالحق کے قریبی دوست تھے اور اس وقت کی وفاقی کابینہ یا مجلس شوریٰ میں انہیں خصوصی اہمیت حاصل تھی۔خاقان عباسی کا پس منظر فوجی تھا، او پاک فضائیہ میں ایئرکموڈور کے طور پر فرائض انجام دے چکے تھے ،جب جنرل ضیاءالحق بریگیڈیئر تھے تو دونوں نے اردن میں ایک ساتھ خدمات انجام دی تھیں۔ بعد ازاں خاقان عباسی نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں کنسٹرکشن سمیت دیگر کاروبار شروع کیے جن کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور اس دوران انہوں نے مری کہوٹہ اور خطہ کوہسار کے گردونواح کے بے شمار لوگوں کو مشرق وسطی میں روزگار کیلئے بھیجا جو اس دور کا یورپ سمجھا جاتا تھا۔
بے پناہ دولت ، مرتبہ اور سیاسی اثر رسوخ ہونے کے باوجود وہ اپنی ذاتی زندگی میں نہایت سادگی پسند تھے اور کوئی بھی عام آدمی کسی بھی وقت ان سے ملاقات کر سکتا تھا۔

