عدالتی اصلاحات میں اگر بدنیتی شامل نہیں ہے تو ایک شخص "چیف جسٹس” سے کُل اختیار "ازخُود نوٹس” چھین کر تین ججوں پر مشتمل کرنا خوش آئند ثابت ہو سکتا ہے۔ دیگر اداروں میں بھی اسمبلی کے ذریعے اسی طرز کی قانون سازی درکار ہےتاکہ کوئی فرد واحد یا ایک گروہ پورے ملک اور عوام کو ایک لاٹھی سے نہ ہانکے.
مگر دوسری طرف ان اصلاحات میں اس قدر عجلت معنی خیز ہے. جب آدھی سے زاہد اسمبلی خالی پڑی ہے اور یک دم آپ بِل پیش کر کے منظور کرانے کے درپے ہیں۔ دوسری طرف آئین کے منافی کام کر رہے ہیں کہ وقت پر الیکشن نہیں کرا رہے۔ گویا جب اپنے مفادات پر ضرب پڑے تو اسمبلی سے قانون سازی کرا لو لیکن جب سب اچھا چل رہا ہو تو قانون سازی کی یاد تک نہیں رہتی۔

ہمارے سیاست دان 75 برس سے آشیرباد لے کر کرسی پر بیٹھنے کی تک و دو میں لگے رہے ۔دراصل ان کا اصل کام تو قانون سازی ہی تھا۔ قانون انگریزوں کا بنایا ہوا ہے، جس میں انصاف کا حصول عام آدمی کے بس کا روگ ہی نہیں ہے۔ مُلک میں ایسی مخلص قیادت کی ضرورت ہے جو ازسرِ نوقانونی اور آئینی معاملات کی نوک پلک سنوارے، پارلیمنٹ میں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو وہاں پر ایک دوسرے پر پھبتیاں کسنے کے بجائے عام آدمی کی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے قانون سازی کریں.
محکمہ مال سے لے کر صحت، صحت سے انصاف، اور انصاف سےتعلیم اور دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی میں ہم بے راہ ہیں، بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں.
سرمایہ دار طبقہ قانون سازی صرف اس وقت کرتا ہے جب اس کا اپنا کام پھنسا ہو۔ لہذا اس دھوکے میں نہ آئیے گا یہ ہمارے سجن نہیں ہیں۔
