خالقِ ارض و سما، ملجا و ماوٰی ، مددے!
چشم و دل ہو گئے آلودہِ دُنیا، مددے !
دولتِ فکر و عمل ، حُسنِ عبادات و کلام
گُن یہ سب بندہِ عاصی کو بھی سِکھلا، مددے!
پھر سے شَل کر دیے آلائشِ دنیا نے حواس
دل ہُوا زر کی چکا چوند کا شَیدا، مددے!
کر عطا نم کے خزانوں سے کوئی جُرعہِ نُور
چمک اُٹھّے مِری قسمت کا ستارہ مددے!
گَھٹتی جاتی ہے دلِ زار میں جینے کی طلب
سُوکھتا جاتا ہے اُمّید کا دریا ، مددے!
کب تلک اور بھٹکتے رہیں احساس و خیال
کوئی چارہ، کوئی حِیلہ، کوئی رستہ، مددے!

