پسِ سکوت، پئےگفتگو پڑے رہیں گے
ہم ایسے سوختہ لب بے نمو پڑے رہیں گے
نہیں سمیٹیں گے جسموں کی دھجیاں ہم لوگ
بٹیں گے ٹکڑوں میں اور چار سُو پڑے رہیں گے
نہیں اتارنا اُس نے فلک سے شخص کوئی
جو اَب نہ بولے تو بے آبرو پڑے رہیں گے
نہیں ملے گا اذیّت کا اندمال اِنہیں
یہ پھول باغ میں بے رنگ وبُو پڑے رہیں گے
ہمیں سکھایا گیا ہے قناعتیں کرنا
دَرِ اُمید پہ ہو کر لہو پڑے رہیں گے
جمی رہیں گی نگاہیں اداس جھیل کے پار
شکستہ پنکھ سرِ آبجُو پڑے رہیں گے
۔۔۔
عبدالرحمان واصف
کہوٹہ

