تقدیریں 💐💐❤️
شاعرہ : نازیہ درانی
میں محبت کے غم میں
تری لکھی گئی کتاب کے چند
پڑھے گئے اوراق
لیکن وہ پلٹا ہوا پہلا ورق
جو کتاب کے وسط میں پیوست تھا
اٹکا رہا ؟
یہ لمحہ ایسا تھا،،،،،
کہ وہاں زندگی رک گئی تھی
کھڑے پانی کی طرح
میں بھی وہیں کھڑی رہ گئی۔
اور سوچ میں پڑ گئی
کہ اگر یہ ورق
دائیں ہاتھ میں گر گیا۔
تو یہ عمارت دنیا،،،،،،
جیسی ہے ویسی ہی رہے گی
اپنے حال پہ، اپنے آثار پہ ۔۔۔۔۔۔
اور محبت جیت جائے گی !
اور اگر وہ واپس بائیں ہاتھ میں آ گیا
تو یہ دنیا کا وجود،،،،،،
اس طرح ختم ہو جائے گا
نیست و نابود ہو جائے گا
کہ اس کا ازسرنو وجود میں آنا
شاید ممکن نہ ہو سکے
روح زندگی کے تصور
سے منقطع ہو جائے شاید
زندگی تب زندگی نہ رہ سکے شاید
لیکن اچھا ہوا یہ ورق
اس ہاتھ کے سپرد ہوا
جس ہاتھ میں محبت کا قلم ہے
جو ہماری محبت کے ماتھے پر
ہماری محبتوں کی تقدیریں لکھتا ہے
