مری کے گردونواح میں غیرقانونی شکار کا سلسلہ جاری ہے ۔ نایاب نسل کے پرندوں ، فیزنٹس ، ککڑ( جنگلی ہرن) کی نسل کشی تیزی سے کی جارہی ہے جبکہ متعلقہ حکام اور ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں یا جیب گرم کر کے چپ سادھ لیتے ہیں۔۔
تفصیلات کے مطابق مری شہر سے ملحقہ علاقوں اور گردونواح کے جنگلات میں ان دنوں شکاری انفرادی اور اجتماعی صورت میں اسلحہ آٹھائے جنگلات میں مٹر گشت کرتے نظر آتے ہیں اور فائرنگ کی آوازیں بھی دور سے سنائی دیتی ہیں جبکہ اس بار عام شکاریوں کے علاوہ سرکاری لوگ بھی شکار کرنے میں مصروف نظر آئے ہیں۔ محکمہ وائلڈ لائف کا عملہ مکمل طور پر فلیڈ سے غائب ہے اور برف باری کے موسم میں مری کے گردونواح کےجنگلات میں ان دنوں غیرقانونی شکارکاسلسلہ عروج پر ھے اوراکثرجنگلات میں ٹولیوں کی شکل میں شکاری شام کے وقت زیادہ دکھائی دیتے ہیں ۔عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر مری سے فوری نوٹس لینے اور غیر قانونی کام میں ملوث لوگوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔کا مطالبہ کیا ہے۔
