گزشتہ چند دہائیوں سے بدلتی ہوئی ثقافت کے باعث ہماری طرف پہاڑی علاقوں میں ہاتھ سے بنے ہوئے سویٹر اور جرسیاں، مفلر اور ٹوپیاں نایاب ہوگئی ہیں۔ پہلے خواتین سلائیوں اور کروشیہ کے استعمال سے خوبصورت سویٹرز، جرسیاں، مفلر، بچوں کی جرابیں اور دستانے، مردانہ ٹوپیاں تیار کرتی تھیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب بنانے کی اجرت وصول نہیں کی جاتی تھی بلکہ اپنے پیاروں کو بطور تحفہ پیش کی جاتی تھیں۔
اُون کے گولے اور سلائیاں بازار سے ملتی تھیں۔ پہلے اُون بھی گھروں میں تیار کی جاتی تھی جو بھیڑ بکریوں کے بالوں سے حاصل کی جاتی تھی۔
اگر کسی خاندان میں میں کوئی ہنر مند خاتون اس کام کی ماہر ہوتی تو اس کے لیے اُون کے گولے بھیج دیئے جاتے تھے کہ میرے لیے فلاں چیز بُن کر بھیج دینا۔ انتہائی محنت اور دل لگی سے کوئی بھی چیز بُن کر اپنے پیاروں کے لیے بھیجی جاتی تھی۔بعض اوقات بغیر بتائے کوئی چیز تیار کر کے کسی قریبی رشتہ دار کو سرپرائز دیا جاتا تھا۔محبت کا یہ انوکھا اندازہ کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملا۔
مرد حضرات عام طور پر گلا بند(مفلر) اور ٹوپیاں بنواتے تھے اور نوجوان بغیر بازو والی سویٹر شوق سے بنواتے تھے۔کسی بڑی جرسی کو ادھیڑ کر بھی دھاگا/سوتر کو گولے کی صورت میں جمع کر لیا جاتا تھا اور اسے استعمال میں لا کر بچوں کی جرابیں دستانے اور دیگر چیزیں بنائی جاتی تھیں۔ ہاتھوں سے بنے اُون کی جرسی سویٹر کی نرمی و گرمی کی بات ہی کچھ اور ہوتی تھی جس کے ایک ایک پھندے ایک ٹانکے میں انگلیوں کی پوروں کا لمس اور حرارت و دبازت محسوس ہوتی تھی جیسے سچے رشتوں کا سچا پیار ہو،لیکن اب ہم لوگ سچے پیار کی نرمی و گرمی کے بجائے دکھاوے کی خوبصورتی کو ترجیح دینے لگے ہیں۔
پرانے زمانے میں خواتین گھروں میں اسی طرح کی گرہستی میں مصروف رہتی جو ایک اچھی مصروفیت اور ورزش تھی۔ ہاتھ سے بنے سویٹرز اور دیگر اشیاء کو اب آؤٹ آف فیشن سمجھا جانے لگا جس وجہ سے یہ قدیم روایت اب ختم ہو گئی ہے
میری کتاب”بچپن لوٹا دو“ کا صفحہ نمبر165
