روٹی نہیں۔ آٹا بھی نہیں بچے بھوکے ہیں۔
وہ کچھ دیر سوچتا رہا اس کے پاس کل 5 سو روپے تھے اور مہینے کے پورے 23 دن ۔۔۔ مزدوری بھی وقت پر نہیں ملتی تھی ۔۔۔
تب ہی باہر شور سا مچ گیا ۔۔
سستے آٹے کا ٹرک آیا ہے ۔۔کسی نے چلا کر کہا ۔۔۔ وہ چپل پہنے بغیر دوڑ گیا بیوی نے لپک کر چولہے میں کاغذ اور لکڑی کی کھپچیاں جمع کے آگ لگائی اور کل پڑوس سے آنے والی دال گرم ہونے کے لئے چولہے پر رکھ دی ۔۔۔
شور بڑھ گیا
عورت نے جھانک کر دیکھا لوگ ٹرک کے گرد کھڑے ہوئے تھے ۔۔۔ ” چلو آٹا تو ملے گا ”
وہ پھر آکر بیٹھ گئی ۔۔مگر چند منٹ بعد ہی بھگدڑ سنائی دی وہ گھبرا کر باہر نکل آئی ۔۔۔ وہاں سے لوگ منتشر ہورہے تھے مگر وہ نہیں تھا ۔۔۔ ٹرک کے قریب کوئی لیٹا تھا اور کچھ لوگ سر پکڑے بیٹھے تھے
کچلا گیا بھگدڑ میں۔۔۔ کوئی اواز آئی ۔۔
وہ گھر آکر بیٹھ گئی ۔۔
اس کا سب کچھ ختم ہورہا تھا بس یہ امکان تھا کہ تین چار دن تک بچوں کے لئے گھر میں آس پڑوس سے کھانا آتا رہے گا
"وہ جاتے جاتے آٹے کا انتظام کر گیا”

