ٹیلی کام انڈسٹری نے موبائل فون کی سم کی تصدیق کا نیا اور زیادہ مؤثر طریقۂ کار متعارف کرا دیا، جس کے تحت اب صرف انگوٹھے سے صارف کی شناختی تصدیق نہیں ہو سکے گی بلکہ ایک سے زائد انگلیوں کے نشانات سسٹم میں فیڈ کئے جائیں گے۔
اس حوالے سے سیلولر موبائل آپریٹرز اور نادرا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (پی ٹی اے) کے ہیڈ کوارٹر میں ایک معاہدے پر دستخط کئے جس کے بعد نیا نظام لاگو کردیا گیا ہے۔
پی ٹی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملٹی فنگر بایومیٹرک ویریفکیشن سسٹم (ایم بی وی ایس) کے آںے کے بعد اب سیلولر موبائل آپریٹرز کسی بھی صارف کو سم بیچتے وقت اس کی تصدیق صرف انگوٹھے سے نہیں کرسکیں گے بلکہ دوسری انگلیوں کے نشانات بھی مشین پر ثبت کرنا پڑیں گے۔
پی ٹی اے کے مطابق کمپنیوں کے پاس موجود بی وی ایس ڈیوائسز کو اپ گریڈ کر دیا گیا ہے، اب انگوٹھے اور انگلیوں کے نشانات کی تصدیق کی جا سکے گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اب یہ سیلولر موبائل آپریٹر کے نمائندے کی مرضی نہیں ہوگی کہ وہ صارف سے انگوٹھے یا انگلی کے نشان کا تقاضا کرے بلکہ سسٹم بتائے گا کہ کون سی انگلیوں کے نشانات ثبت کئے جائیں۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے جعلی ناموں پر سم حاصل کرنے کی حوصلہ شکنی ہوگی جبکہ صارفین کے ڈیٹا اور فون سم کے استعمال کو محفوظ بنایا جا سکے گا۔
چیئرمین نادرا طارق ملک کا کہنا ہے کہ فنگر پرنٹس سے دھوکہ دہی اور جعلسازی کو ختم کیا جاسکے گا، ملٹی بایو میٹرک ویری فکیشن سسٹم جدید اور نہایت محفوظ سسٹم ہے، سسٹم انگوٹھوں اور انگلیوں کے نشانات سے فراڈ روکنے کی استعداد رکھتا ہے۔
موبائل سم کیلئے صرف انگوٹھے سے تصدیق کافی نہیں ہو گی
