Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کوہسار یونیورسٹی مری میں کلاس روم کی کمی کی وجہ کالجز کے مقفل کمرے ہیں

images 29

ذرائع کے مطابق کوہسار یونیورسٹی مری کی انتظامیہ کی طرف سے یونیورسٹی فنڈز سے کروڑوں روپے کی مشینری اور فرنیچر طلباء کے لیے خریدا گیا تھا۔ جس کو دونوں کالجز کے کچھ کمروں میں رکھ دیا گیا۔

کلاس رومز میں سامان رکھنے کی وجہ سے کالجز کی دونوں عمارات کے بہت سے کمرے گودام میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ کیوں کہ سامان تاحال استعمال میں نہیں آیا اس لیے یہ کمرے عرصے سے بند پڑے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہی وجہ ہے کہ امسال داخلہ کے لیے میرٹ لسٹ کو بُنیاد بنا کر بچوں کے داخلے کی تعداد کو کم کیا گیا۔ ایک طرف تو یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف ہے کہ طلباء کے لیے کلاس رومز کی کمی ہے۔ جب کہ دوسری طرف کالجز کے کلاس رومز کو گودام کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

عوام کا پرزور مطالبہ ہے کہ کوہسار یونیورسٹی مری کے وائس چانسلر حبیب بخاری اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔  کوہسار یونیورسٹی انتظامیہ کا فرض ہے کہ کالجز کے بند کمروں میں عرصے سے رکھی مشینری اور فرنیچر کو نکال کر استعمال میں لائیں تا کہ نہایت قیمتی مشینری بھی تباہ نہ ہو اور طلبا کو کلاس روم بھی میسر آ سکیں۔

یہ امر ناگزیر ہے کہ مری کے عوام کی طرح یونیورسٹی انتظامیہ بھی پنجاب ہاوُس کی پوری بلڈنگ کو یونیورسٹی کے حوالے کرنے کا مطالبہ ضرور کرے۔ نیز  یونیورسٹی کے لیے ایک نئی بلڈنگ کی تعمیر کا مطالبہ بھی ضروری ہے۔

کلاس رومز کی کمی کے مسئلے کے فوری حل کے لیے وائس چانسلر غیر ضروری سامان سے کی وجہ سے‌ مقفل کالجز کے کمروں کو فورا خالی کروائیں۔ تا کہ گودام میں رکھی مشینری استعمال میں آ سکے۔ نیز پنجاب ہاوُس کی پوری عمارت ملنے یا نئی بلڈنگ تعمیر ہونے تک کسی حد تک کلاس رومز کا مسئلہ بھی حل ہو سکے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481