ذرائع کے مطابق کوہسار یونیورسٹی مری کی انتظامیہ کی طرف سے یونیورسٹی فنڈز سے کروڑوں روپے کی مشینری اور فرنیچر طلباء کے لیے خریدا گیا تھا۔ جس کو دونوں کالجز کے کچھ کمروں میں رکھ دیا گیا۔
کلاس رومز میں سامان رکھنے کی وجہ سے کالجز کی دونوں عمارات کے بہت سے کمرے گودام میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ کیوں کہ سامان تاحال استعمال میں نہیں آیا اس لیے یہ کمرے عرصے سے بند پڑے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہی وجہ ہے کہ امسال داخلہ کے لیے میرٹ لسٹ کو بُنیاد بنا کر بچوں کے داخلے کی تعداد کو کم کیا گیا۔ ایک طرف تو یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف ہے کہ طلباء کے لیے کلاس رومز کی کمی ہے۔ جب کہ دوسری طرف کالجز کے کلاس رومز کو گودام کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
عوام کا پرزور مطالبہ ہے کہ کوہسار یونیورسٹی مری کے وائس چانسلر حبیب بخاری اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔ کوہسار یونیورسٹی انتظامیہ کا فرض ہے کہ کالجز کے بند کمروں میں عرصے سے رکھی مشینری اور فرنیچر کو نکال کر استعمال میں لائیں تا کہ نہایت قیمتی مشینری بھی تباہ نہ ہو اور طلبا کو کلاس روم بھی میسر آ سکیں۔
یہ امر ناگزیر ہے کہ مری کے عوام کی طرح یونیورسٹی انتظامیہ بھی پنجاب ہاوُس کی پوری بلڈنگ کو یونیورسٹی کے حوالے کرنے کا مطالبہ ضرور کرے۔ نیز یونیورسٹی کے لیے ایک نئی بلڈنگ کی تعمیر کا مطالبہ بھی ضروری ہے۔
کلاس رومز کی کمی کے مسئلے کے فوری حل کے لیے وائس چانسلر غیر ضروری سامان سے کی وجہ سے مقفل کالجز کے کمروں کو فورا خالی کروائیں۔ تا کہ گودام میں رکھی مشینری استعمال میں آ سکے۔ نیز پنجاب ہاوُس کی پوری عمارت ملنے یا نئی بلڈنگ تعمیر ہونے تک کسی حد تک کلاس رومز کا مسئلہ بھی حل ہو سکے۔
