اندھیرا ہم سے بہت بڑا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری عمریں پرائے لفظوں کو سچ سمجھ کر گزر رہی ہیں
اداس موسم ہمارا موسم کبھی نہیں تھا
جو نہر اس شہر کی زمینوں میں رنگ تقسیم کر رہی ہے
وہ ناسمجھ ہے
اندھیرا اس سے بہت بڑا ہے
اندھیرے ہم عمر ساعتوں سے جڑے ہوئے ہیں
ہماری آنکھوں کا روشنی سے جو پہلے دن کا مکالمہ تھا
ہرے درختوں کی گہری چپ میں سمٹ گیا تھا
پرندے شاخوں پہ جھولتے تھے
یہ نہر چلتی تو چاند خود اس کے ساتھ چلتا
ہماری آنکھوں کا چاندنی سے جو پہلے دن کا مکالمہ تھا
وہ اپنی عمروں کی ابتدا تھا
ہمارے کھیتوں میں چاندنی فصل بو رہی تھی
اناج کے ڈھیر پر جو چڑیا
بس ایک دانے کی جستجو میں بھٹک رہی ہے
وہ بے خبر ہے
اندھیرا اس ڈھیر سے بڑا ہے
ہماری عمریں پرائے لفظوں کو سچ سمجھ کر گزر رہی ہیں
ہم ایک دانے کی جستجو سے بندھے ہوئے ہیں

