وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ سستی اور ماحول دوست بجلی کی پیداوار میں اضافے کیلئے جنوبی پنجاب میں 100میگاواٹ کا زینفا سولر منصوبہ تیارکرلیاگیاہے۔ منصوبے سے پیدا ہونے والی فی یونٹ بجلی کی قیمت 9روپے ہوگی اور 100میگاواٹ سولر بجلی درآمدی ایندھن کی جگہ لے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع لیہ کے علاقہ چوبارہ میں سورج کی روشنی (سولر) سے 100 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کا آغاز 2015ءمیں ہوا تھا اور اس سے سالانہ 30ملین امریکی ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی قیادت میں بجلی کے سستی ذرائع سے حصول کےلئے پالیسی بنائی گئی ہے جس میں ملک کے مختلف علاقوں میں ہزاروں میگاواٹ بجلی سولر سے پیدا کی جائے گی اور آئندہ ملک میں بجلی بنانے والے تمام کارخانے مقامی ایندھن سے بجلی پیدا کریں گے۔
درآمدی تیل، فرنس آئل اور کوئلے کی کھپت کم کرکے زرمبادلہ بچایاجائے گا۔ حال ہی میں جھمپیر میں ہوا سے بجلی بنانے کے 110 میگاواٹ کے منصوبے کا آغاز کردیاہے جبکہ گزشتہ دنوں خیبر پختونخوا میں 880 میگاواٹ کے سکھی کناری ہائیڈ روپاورپراجیکٹ پر کام شروع کیاگیاہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت تیزی سے ماحول دوست اور سستی بجلی کے پیداواری منصوبوں پر کام کررہی ہے جس کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔ صوبہ سندھ کے تھر میں مقامی کوئلے سے 1320 میگاواٹ سستی بجلی کی پیداوار کے شنگھائی الیکٹرک پاور پراجیکٹ آئندہ مہینے سے بھرپور استعدادکے ساتھ بجلی فراہم کریگا جس سے پاکستان میں کسانوں کے ٹیوب ویلوں، صنعتکاروں کی صنعتوں، تاجروں کے کاروبار کو پھلنے پھولنے میں مدد ملے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ عوام کو مہنگی بجلی سے چھٹکارا دلوانے کےلئے سستی بجلی کی پیداوار کےلئے حل نکال رہے ہیں جس سے 7 سے 8 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی پیدا ہوگی اور عوام کے بھاری بھر کم بلوں میں واضح کمی آئے گی۔
ملک کی ترقی کے سفر کو مزید بڑھانے کےلئے مقامی کوئلے، پانی، ہوا اور سورج سے بجلی کی پیداوار کے منصوبوں کو فروغ دیاجارہاہے۔ منیجنگ ڈائریکٹر پرائیویٹ پاور انفراسٹرکچر بورڈ (PPIB) شاہجہان مرزا، منیجنگ ڈائریکٹرنیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی لمیٹڈ (NTDC) انجینئر ڈاکٹر عبدالجبار خان اور اٹلس گروپ سے عمران شیرازی نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر میں شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار کا یہ سب سے بڑا منصوبہ ہے جس سے سب سے زیادہ میپکو کو ہوگا۔
