"یاد صندوقے” نیں وچ اسرے کسے سمبھالی رکھیا
رکھیاں رکھیاں، رکھیاں رکھیاں، اساں پرانے ہوئی گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
("یاد صندوق” میں کسی نے ایسے سنبھال کے رکھ دیا
کہ ہم مدتوں تک رکھے رکھے ہی بوسیدہ ہو گئے”)
مادیت پرستی کے اس سفاک عہد میں انسان بھی ایک "شے” بن گیا ہے۔ کبھی انسان ہر چیز سے مکرم و مقدم تھا۔ یہ احساس و ادراک عام تھا کہ فلک برسوں سرگرداں رہتا ہے تو خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں۔ نرگس ہزاروں سال اشک بار رہتی ہے تو کہیں چمن میں دیدہ ور پیدا ہوتا ہے۔ کائنات کی ہر چیز انسان کی خدمت کے لیے بنی ہے۔ اس لیے انسان "نیوکلیئس” ہے۔ وہ "احسن تقویم” ہے۔
لیکن ہم نے چیزوں کو "نیوکلیئس” کا درجہ دے دیا ہے۔ اب انسان شعوری طور پر "اسفل سافلین” بننے پر رضا مند ہو گیا ہے۔ اب چیزوں کو مقدم و مکرم رکھا جاتا ہے۔ انسان کے بجائے چیزیں اہم ہو گئی ہیں۔ بلکہ انسان اپنا تعارف ہی چیزوں کے حوالے سے کروانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔۔۔ فلاں انڈسٹری کے مالک فلاں صاحب، فلاں حویلی والے سیٹھ صاحب، کالی مرسیڈیز والے ملک صاحب، فلاں پلازے والے عباسی صاحب۔
چیزیں تو استعمال کے لیے ہوتی ہیں۔ وہ آوٹ ڈیٹڈ اور آؤٹ آف فیشن بھی ہو جاتی ہیں۔ ان کی اہمیت کا تعین ضرورت کرتی ہے۔ انسان جب چیز بن گیا ہے تو اس کی اہمیت ضرورت کے ساتھ منسلک ہو گئی ہے۔ سیزن بدلنے پر کپڑے گودام میں رکھے بڑے صندوق میں رکھ دیے جاتے ہیں۔ انھیں ان کا سیزن آنے سے پہلے کوئی ہاتھ بھی لگانا پسند نہیں کرتا۔
ہم نہ جانے کب سے صندوق میں رکھے ہیں۔۔ کسی کو اخلاص کی، محبت کی، انسانیت کی، تہذیب کی، شرافت کی اور شعور و آگہی کی ضرورت ہو گی تب ہی صندوق کھولے گا نا؟؟؟؟؟ لیکن۔۔۔۔۔ کسی کو اب ان کی ضرورت ہی کہاں ہے !!!!!
