پچھلے دنوں ایک ٹی وی چینل کے شو ’’آپس کی بات‘‘ میں مجھے ایک خصوصی مہمان کے طور پر مدعو کیا گیا جس کی میزبان خاتون حسب معمول نہایت نٹ کھٹ، چنچل اور شرارتی سی تھیں، اگرچہ بوٹا سا قد تھا لیکن خاصی پٹاخہ تھیں، اگرسروقامت ہوتیں تو یقیناًپٹاخہ نہ ہوتیں، ہینڈ گرنیڈ وغیرہ ہوتیں اور خلاف توقع بونگیاں نہ مارتی تھیں، زرخیز ذہن رکھتی تھیں اور انہوں نے میری درخواست پر عمل کیا اور شو کے دوران مجھ سے کوئی پنگا نہ لیا۔۔۔
دراصل جب کبھی مجھے کسی شو میں مدعو کیا جاتا ہے تو میری کچھ شرائط ہوتی ہیں۔۔۔ ایک یہ کہ آپ دوچار بار پھر فون کیجئے تاکہ مجھے یقین ہو جائے کہ آپ کو واقعی میری موجودگی کی خواہش ہے۔ دوسرا یہ کہ ریکارڈنگ کا وقت میں طے کروں گا۔ تیسری شرط یہ ہوتی ہے کہ میرے سوا اور کوئی مہمان نہ ہو گا۔۔۔ البتہ اگر کوئی خاص موضوع زیربحث ہے تو الگ بات ہے اور آخری شرط یہ ہوتی ہے کہ میزبان خاتون ریکارڈنگ کے دوران مجھ سے پنگا نہ لے ورنہ میں نتائج کا ذمہ دار نہ ہو گا۔۔۔ میں ایک جہاندیدہ اور عیار بزرگ مینڈک ہوں اگر کوئی مینڈکی جسے زکام لگا ہو مجھ سے چھیڑخانی کرے گی تو پچھتائے گی۔۔۔
جیسے پچھلے برس ایک نادرن مینڈکی مجھ سے پنگا نہ لینے کے وعدے وعید کر کے شو کے دوران حسب عادت چنچل ہو گئی۔۔۔ نخرے کرنے لگی، اپنے جھمکے جھلانے لگی۔۔۔ پہلے تو اس نے دانش کے بیش قیمت موتی بکھیرے، ناظرین کو بتایا کہ ادب کیا ہوتا ہے اور ارسطو نے کیا کہا تھا اور پھر میرا تعارف کروا کے مجھ پر فقروں کے تیر برسانے لگی۔۔۔ میں نے ازحد تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے فقروں کی داد دی اور اس کے بھڑکیلے لباس کی توصیف کی۔۔۔ اس پر موصوفہ نے اِک ادا سے کہا، ہائے ہائے تارڑ صاحب آپ لڑکیوں سے فلرٹ کرنے سے باز نہیں آتے۔ سنا ہے آپ کو ہر قدم پر کوئی نہ کوئی حسینہ مل جایا کرتی تھی۔۔۔ اور میں شرمندگی کی اداکاری کرتے مسکراتا رہا۔۔۔ بالآخر کہنے لگیں۔۔۔ میں نے سنا ہے کہ آپ نے سولہ برس کی عمر میں پہلا عشق کیا تھا۔۔۔
اب جانے انہوں نے میری ذاتی زندگی کے بارے میں یہ نادر ’’حقائق‘‘ کہاں سے حاصل کئے تھے تو میں بدستور خجل مسکراتا رہا۔ اس پر انہوں نے کیمرے سے مخاطب ہو کر کہا ’’ہائے ہائے صرف سولہ برس کی عمر میں انہوں نے عشق شروع کر دیا تھا۔۔۔ کیوں تارڑ صاحب کیا یہ سچ ہے!
’’بالکل سچ ہے لیکن بی بی آپ کے بارے میں تو اطلاع ہے کہ آپ۔۔۔ آپ نے ایک انٹرویو کے دوران اقرار کیا تھا کہ میں تو ایک چھوٹی سی بچی تھی جب میری شادی ہو گئی اور دولہا میری پسند تھے تو اگر آپ ایک چھوٹی سی بچی ہونے کے باوجود عشق کر سکتی ہیں اور تین چار بچوں کی ماں ہو سکتی ہیں تو میں تو پھر سولہ برس کا تھا‘‘ مجھے محسوس ہوا کہ مجھے یہ نہیں کہنا چاہئے تھا کہ ان کا چہرہ فق ہو گیا اور انہوں نے فوراً موضوع بدل دیا۔۔۔ چونکہ شو براہ راست نشر ہو رہا تھا اس لئے ایڈیٹنگ کی گنجائش نہ تھی۔۔۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ بے شک ایک بیل عمر رسیدہ ہے لیکن اسے اپنا سرخ دوپٹہ دکھا کر اشتعال میں آنے پر مجبور تو نہ کریں۔
مختلف مارننگ شوز کے میزبانوں میں سے میں نے اداکار شان کو سب سے زیادہ متین، مدبر اور دانش مند پایا۔۔۔ اس نے اپنے عظیم باپ ریاض شاہد کے گہرے تدبر کو ورثے میں پایا ہے۔۔۔ ’’سُسرال‘‘ اور ’’زرقا‘‘ ایسی فلموں کے خالق کا بیٹا جانتا ہے کہ اس کے سامنے جو مہمان بیٹھا ہے اس کی ادبی یا سماجی حیثیت کیا ہے۔۔۔گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ وہی شان ہے جو پنجابی فلموں میں دھاڑتا پھرتا ہے مونچھوں کو تاؤ دیتا، کلاشنکوف کو سر کے اوپر معلق کر کے اس فربہ ہیروئن کے زیروبم سے لاپروا جو اس کے اردگرد اپنے زیرو بم پھڑکاتی پھرتی ہے۔۔۔جو برصغیر کے تمام فلمی ہیروز سے کیسا بڑھ کر خوش شکل اور پُرکشش ہے۔۔۔ شاہ رخ خان اس کے سامنے کم از کم شکل کے حوالے سے چپڑ قناتیہ لگتا ہے۔۔۔ گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ وہی شان ہے۔۔۔ وہ اتنی تکریم اور عاجزی سے سوال کرتا ہے۔
میں ان دنوں ایک شو ’’شادی آن لائن‘‘ کی میزبانی کیا کرتا تھا جب اسی چینل پر ایک ٹاک شو شروع ہوا ایک نہیں اکٹھی تین نامعلوم سی خواتین اس کی میزبان تھیں اور اپنی نامعلومیت میں خاصی ڈھل چکی تھیں لیکن ان کے نخرے نہ ڈھلے تھے۔ ان کے شو میں خاصے معروف لوگ آتے جن کے ساتھ وہ انتہائی بدتمیزی سے پیش آتیں اور ان کی شرافت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان پر اخلاق سے گرے ہوئے حملے کرتیں۔۔۔ مجھے مدعو کیا گیا تو میں نے انکار کر دیا لیکن اس شو کا پروڈیوسر میری تحریریوں کا شیدائی تھا کہنے لگا۔۔۔ تارڑ صاحب آپ میرے لئے آ جایئے، مجھے فخر ہو گا کہ جس شخص کو ٹی وی سکرین پر دیکھتا میں جوان ہو اور پھر اُس کی تحریروں کا مداح ہوا وہ میرے ذاتی شو میں آیا۔۔۔ یوں بھی یہ آپ کے چینل کا شو ہے۔۔۔ ہمارا حق بنتا ہے چنانچہ میں انکار نہ کر سکا۔۔۔
اس شو کی وڈیو ریکارڈنگ یو ٹیوب پر محفوظ ہے آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ میری انٹری سے پیشتر ان تینوں نے جی بھر کے میرے بارے میں بونگیاں ماریں اور جب میں اپنی نشست پر بیٹھ گیا تو ایک لمبے چہرے والی خاتون، جیسے ایک بوسیدہ پیراہن دھونے کے بعد دھوپ میں خشک ہوتے لٹک جاتا ہے ایسے چہرے والی بوڑھی خاتون نے نخریلے انداز میں کہا ’’دیکھئے کتنی خوبصورت شام ہے۔۔۔ آپ اس شام میں ہماری رفاقت میں کیسا محسوس کرتے ہیں؟‘‘ تو میں نے نہایت سنجیدگی سے کہا ’’خاتون، یہ میری زندگی کی پہلی شام ہے جو میں اتنی ادھیڑ عمر خواتین کے ساتھ گزار رہا ہوں‘‘ ۔
اسی نوعیت کے ایک ٹیلی ویژن شو میں مجھے بے حد عزیز، باکمال اداکار اور میزبان معین اختر نے بھی مجھ سے کچھ چھیڑ چھاڑ کی تھی اور مجھے آج تک افسوس ہے کہ میں نے کیوں اشتعال میں آ کر اسے شرمندہ کیا تھا۔ معین اختر نے اپنی موت سے کچھ روز پیشتر مجھے ایک طویل فون کیا تھا۔۔۔ وہ میرے بارے میں فکرمند تھا، میری موت کے بارے میں فکرمند تھا اور پھر مجھ سے پہلے مر گیا۔ معین جیسا نابغۂ روزگار شخص اگر مجھ سے پنگا لیتا ہے تو جائز ٹھہرتا ہے مینڈکیوں کو یہ حق ہرگز حاصل نہیں کہ بوڑھے مینڈک کے ساتھ چھیڑ خوانی کریں۔
