سید سلیمان ندوی کا شمار مذہبی علما‘ تاریخ دانوں اور اردو و فارسی ادب کی بڑی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ نے مولانا شبلی نعمانی کی وفات کے بعد سیرۃ النبی کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ علامہ اقبال سے آپ کے گہرے روابط تھے۔ علامہ اقبال نے بہت سے مذہبی معاملات پر آپ سے رہنمائی لی۔ ۱۹۳۳ میں افغانستان کے دورے میں علامہ اقبال کے ساتھ جن دو شخصیات نے ہندوستان سے بطور مہمان شرکت کی اُن میں آپ بھی شامل تھے۔ افغانستان کے اس دورہ پر آپ نے سیرِ افغانستان تحریر کی جبکہ علامہ اقبال نے فارسی مثنوی مسافر لکھی۔ مکاتیبِ اقبال بنام سید سلیمان ندوی سے دونوں شخصیات کے روابط کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ آپ کا انتقال ۲۲ نومبر ۱۹۵۳ کو کراچی میں ہوا۔
سید سلیمان ندوی کون تھے ؟
