چمن میں پاک افغان سرحد باب دوستی پرافغان حدود سے فائرنگ کے واقعے کے بعد سے باب دوستی چوتھےروزبھی بدستور ہرقسم کی آمدورفت کیلئے بند رہا جس کے نتیجے میں افغانستان میں پھنسے ساڑھے 9 ہزار سے زائد پاکستانی گزشتہ روزوطن واپس آگئے جبکہ سرحد پار موجود دو ہزار پاکستانی اب بھی پھنسے ہوئے ہیں جن کے پاس شناختی کارڈموجود نہیں ہیں ۔
ٹرانسپورٹ یونین کے ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں 3ہزار سے زائد گاڑیاں پھنسی ہوئی ہے جن میں لوڈ اورخالی ٹرک اور کنٹینرز شامل ہیں۔ گاڑیوں کے پھنس جانے کے باعث بہت بڑی مقدار میں خوراک، سبزی اور میوہ جات خراب ہو رہے ہیں اور کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے۔
دوسری طرف انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جب تک افغان حکام کی جانب سے باب دوستی واقعے میں ملوث ملزم پاکستان کے حوالے نہیں کیا جاتا، تب تک بارڈر بند رہے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ اتوارکو باب دوستی پر افغان حدود سے فائرنگ کے نتیجے میں ایک ایف سی اہلکار شہید اور دو زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد باب دوستی کو بند کر دیا گیا تھا جو بدھ کو چوتھے روز بھی بند رہا۔
