فلسفہ یونانی زبان کے لفظ فِلوسوفِیا سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں حکمت سے محبت۔ یہ ایک ہمہ گیر اور کثیر الجہت علم ہے جو وجود کے اغراض اور مقاصد دریافت کرنے کی سعی کرتا ہے۔ اسے ’’ام العلوم‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
فلسفہ زندگی، موت، کائنات، اخلاقیات اور مادّے کی حقیقت جیسے بڑے سوالات کی حقیقت سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
افلاطون کے مطابق فلسفہ اشیاء کی ماہیت کے لازمی اور ابدی علم کا نام ہے۔
ارسطو کے نزدیک فلسفہ کا مقصد یہ دریافت کرنا ہے کہ وجود بذات خود اپنی فطرت میں کیا ہیں۔
کانٹ اسے ادراک و تعقل کے انتقاد کا علم قرار دیتا ہے۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یونانیوں کے لکھنے کے فن اور چینیوں کی کاغذ کی ایجاد نے فلسفے کے ساتھ ساتھ دیگر کئی علوم کے فروغ میں بھی بہت اہم کردار ادا کیا۔
اسلامی دنیا میں آٹھویں صدی علم فلسفہ کے فروغ کے حوالے سے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں جہاں سائنسی علوم کی کتابوں کو عربی میں ترجمہ کروایا گیا وہیں یونانی فلسفہ کی کتب بھی عربی میں ترجمہ ہوئیں۔ ابویوسف الکندی کو شعبہ فلسفہ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ الکندی کا اپنا ذہن بھی فلسفیانہ تھا۔ نیز اس شعبے کے سربراہ کے طور پر ان کو یونانی فلسفیوں کے کام کو کلی طور پر دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ الکندی اسلامی دنیا میں فلسفے کے پہلے استاد کے طور پر معروف ہیں
۔ لیکن یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ الکندی کے شعبہ فلسفہ میں صرف مسلم علماء شامل نہ تھے بلکہ یہودی اور عیسائی مفکرین نے بھی یونانی فلسفہ کی کتب کو عربی میں ترجمہ کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔
