حال ہی میں مری کو ضلع بنانے پر ایک دوسرے کو مبارک دینے کاسلسلہ جب قدرے تھما تو پہلے قدم کے طور پر پولیس بھرتی کا غلغلہ بلند ہوا۔جس کے بطن سے 22 برس کی عمر کی بالائی حد برآمد ہوئی۔ بحیثیت سکول کالج اور یونیورسٹی استاد کے راقم کو بخوبی علم ہے کہ نرسری پریپ اور ون کے تعلیمی مدارج سے گزر کر میٹرک پاس کرنے تک اکثر طلبا کی عمر 16 کی بجائے 17 یا 18برس ہو جاتی ہے۔ اس پر ستم یہ کہ 2020 / 21/22 کے تینوں تعلیمی سال کرونا وائرس کی نذر ہو گئے۔ جس کے بہ سبب کم نمبر اور بار بار کے ضمنی امتحانات کی مشق سے ان 3 برسوں میں طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہوا۔
حالیہ بھرتی میں عمر کی بالائی حد 22سال مقرر کرنے سے مذکورہ طلبا کی صریحا حق تلفی ہو رہی ہے۔ اس سارے انتظامی عمل کو چلانے والے نابغے جانے یہ کیسے بھول گئے کہ صرف میٹرک ہی نہیں بلکہ FA/BA پاس امیدوار بھی بھرتی کے اس عمل کا حصہ ہیں۔ ایسے میں میٹرک تعلیم تک اگر اس بالائی حد کا جواز ہو بھی تو BA تک تعلیم یافتہ امیدوار عمر کی اس حد کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔
ایک عام سطح کے انتظامی ضلع میں پولیس نفری عموما دو سے تین ہزار تک ہوتی ہے۔ لیکن مری جیسے خصوصی علاقے میں ابتدائی سطح پر بھرتی کے اس ناقص نظام سے مستقبل میں شدید مسائل پیش آنے کا خدشہ ہے۔ اس سے قبل ٹورازم پولیس میں بھی مقامی نمائندگی صفر ہے جو عوامی نمائندوں اور انتظامی افسران کی کارکردگی پر سوال اٹھاتی ہے۔
مری اور کوٹلی ستیاں کے لوگ مضبوط جسیم اور جفاکش ہیں۔ وہ برطانوی دور سے لے کر حال تک مارشل ریس کی حیثیت سے افواج اور پولیس سروس میں ترجیحا شامل ہوتے رہے ہیں۔حالیہ طرز کی نالائقیوں سےان کے اس کردار کو کم تر کر کے اس نئی تعمیر کی بنیاد میں ہی خرابی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
عوامی نمائندے نہ صرف بھرتی کی تاریخ میں توسیع کرائیں بلکہ عمر کی بالائی حد کم ازکم 25 برس تک بڑھا کر مری کے نوجوانوں کے باعزت روزگار کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کریں
پروفیسر محمد اشفاق عباسی
