کالم شالم
”شاعراؤں کوصاف رکھیں“
تحریر : شکیل اعوان
ہم سمجھتے تھے کہ املا کے معاملے میں کوئی ہم سے زیادہ ترقی معکوس کا حامل کیا ہو گا۔ آخر ہم ”داء جمات پاس ڈریکٹ حوالدار“ ہیں۔ لیکن اچانک مذکورہ بالا اشتہار نظر سے گزرا تو باور کرنا پڑا کہ۔۔۔۔
”ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں“
ہم سوچتے ہیں ہمارے ہاں تو شاعرائیں ہیں ہی نہیں ایک ہی شاعرہ ہے، جس کا نام شاہراہ شرم ہے۔ البتہ شعراء بہت سے ہیں۔ ”بٹہ پٹو“ تو نیچے سے ایک شاعر نکلتا ہے۔ ہر گلی میں ایک ”نکی“ شاعرہ بھی ہوتی ہے، جس پر
ہر گھر کے مکینوں نے ایک عدد نو انچ کا سپیڈ بریکر بنایا ہوتا ہے۔
جہاں تک شاعراؤں کو صاف رکھنے کا تعلق ہے تو یہ ذمہ داری ان کے شوہروں کی بنتی ہے۔ جو "ٹی ایم او” یا کینٹ بورڈ وغیرہ جیسے نکٹھو شوہران ہیں۔ من حیث القوم ہم نے تمام قومی شاعراؤں کو اپنی شاعرہ ماجدہ ”زنانی“ سمجھ رکھا ہے، کہ جیسا چاہیں، جدھر سے چاہیں آئیں جائیں۔ آخر ہم آزاد لوگ ہیں اور آزاد لوگ کسی پابندی کے روادار نہیں ہوتے۔ کوئی سیاسی، مذہبی اکٹھ ہو ” لِدھراں“ بمعہ اپنے فالورز "شاعراہ” پر چڑھ دوڑتے ہیں، جِس سے اس ملک کے عام کنوارے بہت تکلیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
مہذب ممالک میں عام شاہراؤں کو بند کرنا یا ان پر ”جتھوں“ کا چڑھ دوڑنا جرم سمجھا جاتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ہمیں ابھی مہذب ہونے میں صدیوں کا سفر درکار ہے۔ اور اگر شاعراؤں کی یہی حالت رہی تو ”قیامتی نی پندرویں“ تک بھی امید نہ ہی رکھیں؟
اب آتے ہیں المسکین اردو زبان کی طرف۔ ہمارے ایک استاد تھے جو اردو کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ لشکری زبان ہے۔ ہم سوال کرتے کہ کون سے لشکر کی؟ تو کہتے بہت سے قبائل نے ضرورت کے تحت آپس میں رابطے کے لیے یہ زبان تخلیق کی۔ اس میں تمام زبانوں کے الفاظ شامل کیے۔ ہم اکثر غلط سلط اردو املا لکھ دیتے تو وہ مولا بخش” کڈھ “ لیتے۔ ہم عذر پیش کرتے کہ ہمارے قبیلے میں یہ لفظ یونہی مستعمل ہے۔ تب وہ ہنس کر کہتے ۔۔۔۔۔۔۔
”راہمیے مالے دا دسو، یارمی آلا کیہ کرے “
یوں ہم ”لِتریشن“ سے بچ جاتے۔ وہ اثر ہم پرآج بھی ہے۔ ہم آج بھی لکھتے ہوئے املا غلط لکھ جاتے ہیں۔ بعد میں کوئی ہمارا قاری نشان دہی فرماتا ہے تو درستی کرلیتے ہیں کہ حصول علم کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔
سو اے میری پیاری المعروف زندہ قوم! فقط شاعراؤں کو نہ صاف رکھیں بلکہ شعراء کی صفائی کا بھی خاص خیال رکھیں۔
