پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا ہےکہ اے آر وائی کے سلمان اقبال نے شہبازگل کی گرفتاری کے بعد اپنے ادارے کے رکن عماد یوسف کو کہا کہ ارشد شریف کو باہر بھیج دیا جائے،سلمان کو پاکستان واپس لاکر شامل تفتیش کرنا چاہیے۔
جمعرات کو میڈیا بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مرحوم ارشد شریف، دیگرصحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے بھی سائفر پر بات کی، اس کے باوجود ہمارے دل میں ارشد شریف سے متعلق کوئی ایسی بات نہیں ہے، ہم ان کا احترام کرتے ہیں ۔میڈیا ٹرائل میں اے آر وائی چینل نےجھوٹے اور سازشی بیانیےکے فروغ میں کردار ادا کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 10 اگست کوپشاور ائیرپورٹ سے ارشد شریف دبئی کے لیے روانہ ہوئے، کے پی حکومت نے انہیں ائیرپورٹ تک مکمل پروٹوکول فراہم کیا، اس سے پہلے 5 اگست کو ارشد شریف سے متعلق کے پی حکومت کی طرف سے تھریٹ الرٹ جاری ہوا، اس تھریٹ الرٹ سے متعلق سکیورٹی اداروں سےکوئی معلومات شیئرنہیں کی گئیں، اس سےظاہر ہوتاہے یہ الرٹ مخصوص سوچ کے تحت جاری کیا گیا، جس کا مقصد ارشد شریف کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب کو انکوائری کمیشن کا انتظار کرنا چاہیے، اپنے اداروں پر اعتماد رکھیں۔
غیر قانونی کام سے انکار پر نیوٹرل اور جانور کہا گیا: ڈی جی آئی ایس آئی
ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے کہا ہےکہ بغیر شواہد کے الزامات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ،جبکہ نیوٹرل اور جانور اس لیے نہیں کہا گیا کہ ہم نےکوئی غداری کی بلکہ یہ سب اس لیے کہا جارہا ہے کہ ہم نے غیر قانونی کام سے انکار کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ میری واضح پالیسی ہے کہ میری تشہیر نہ کی جائے، مگر آج میں اپنی ذات کے لیے نہیں اپنے ادارے کے لیے میڈیا کے سامنے آیا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ جھوٹ سےفتنہ و فسادکا خطرہ ہوتو سچ کاچپ رہنا نہیں بنتا، میں اپنے ادارے، جوانوں اور شہدا کا دفاع کرنے کے لیے سچ بولوں گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے شہیدوں کا مذاق بنایا گیا، اس میں دو رائےنہیں کہ کسی کو میر جعفر، میر صادق کہنےکی مذمت کرنی چاہیے، بغیر شواہد کے الزامات کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔
ڈی جی آئی ایس آئی کا مزید کہنا تھاکہ غیر قانونی کام سے انکار فرد واحد یا صرف آرمی چیف کا فیصلہ نہیں پورے ادارے کا تھا۔
ہم نے فیصلہ کیا ہوا ہےخودکو آئینی کردار تک محدود رکھنا ہے، جنرل باجوہ چاہتےتو اپنےآخری چھ سات مہینے سکون سےگزارسکتے تھے لیکن انہوں نے فیصلہ ملک اورادارے کےحق میں کیا، جنرل باجوہ اوران کے بچوں پرغلیظ تنقیدکی گئی۔
ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ آرمی چیف کو ان کی مدت ملازمت میں غیرمعینہ مدت توسیع کی پیشکش کی گئی، اگرآپ کا سپہ سالارغدار ہے تو ماضی قریب میں ان کی تعریفوں کے پل کیوں باندھتے تھے، اگرآپ کی نظر میں سپہ سالا غدار ہے تو اس کی ملازمت میں توسیع کیوں دینا چاہتے تھے، اگر آپ کا سپہ سالار غدار ہے تو آج بھی چھپ کر اس سے کیوں ملتے ہیں۔
