کینیا پولیس کے اس بیان کے باوجود کہ سینیئر پاکستانی صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف غلط فہمی کے نتیجے میں یا قانون کی مبینہ خلاف ورزی پر نیروبی پولیس کی گولی کا نشانہ بنے ہیں ، سوشل میڈیا پر سازشی کہانیوں کا دور چل پڑا ہے اور "جتنے منہ اتنی باتیں” کے مصداق ہر کوئی اس معاملے میں تخیل کے گھوڑے دوڑاتا ہوا سرپٹ بھاگتا چلا جا رہا ہے ۔ یہ احساس کیے بغیر کہ مقتول یا متوفی کے خاندان پر کیا گزر رہی ہوگی؟
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ارشد شریف کے خیالات اور سوچ سے اتفاق نہ رکھنے والے بھی ان کی صلاحیتوں اور جرات مندانہ صحافت کے قائل نظر آتے ہیں۔ ارشد شریف کا شمار پاکستان کے ان چند اینکرز یا صحافیوں میں ہوتا تھا جو بھرپور تیاری کے ساتھ پروگرام کرتے تھے۔ ان کی رپورٹس دستاویزی ثبوتوں سے مزین ہوا کرتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے شو "پاور پلے” نےمختصر مدت میں مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ارشد شریف کی فیملی پر کچھ عرصہ پہلے ایک قیامت آکر گزر چکی ہے جب 2011 میں ان کے والد جو نیوی کے ریٹائرڈ کمانڈر تھے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تو ارشد شریف کے ایک بھائی جو پاک فوج میں میجر تھے اور ان کی ڈیوٹی کوہاٹ میں تھی ، والد کے انتقال کی اطلاع ملنے پر گھر کے لئے روانہ ہوئے تھے کہ دہشت گردوں کی گولی کا نشانہ بن گئے۔ اس طرح اس خاندان کو ایک دن میں دو جنازے اٹھانا پڑے تھے اور اب چند برس بعد یہ دوسرا بڑا صدمہ ہے ارشدشریف کی موت کی صورت میں اس خاندان کو اٹھانا پڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق نے سوشل میڈیا پر لوگوں سےاپیل کی ہے کہ برائے کرم گولی لگنے کے بعد سامنے آنے والی میرے شوہر کی تصاویر شیئر نہ کی جائیں اور قتل کے معاملے پر قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔

واضح رہے کہ ارشد شریف کے مبینہ قتل یا موت کی خبر سب سے پہلے برطانیہ میں مقیم پاکستانی صحافی مرتضی علی شاہ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر کی تھی اس میں بتایا گیا تھا ک ہارشد شریف کو کینیا کے شہر نیروبی میں قتل کر دیا گیا ہے اور خاندانی ذرائع نے بھی اس کی تصدیق کردی ہے تاہم بعد ازاں جس چینل یعنی اے آر وائی سے ارشد شریف منسلک تھے ، اس کے پلیٹ فارم سے مسلسل یہ خبر چلائی جاتی رہی کہ ارشد شریف کینیا میں ایک حادثے کا شکار ہو گئے ہیں تاہم حادثے کی نوعیت یا تفصیل کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا ۔

بعد ازاں پیر کی صبح نیروبی پولیس کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ پاکستانی صحافی ایک غلط فہمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال میں نیروبی پولیس کی گولی کا نشانہ بنے ہیں۔
اس واقعے کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ ایک بچے کو یرغمال بنا کر ایک گاڑی میں لے جایا جا رہا ہے۔ ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر ناکہ بندی کر کے گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی تھی کہ اس دوران جس گاڑی میں ارشد شریف سوار تھے اس کے ڈرائیور نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی۔ پولیس نے گاڑی نہ روکنے پر پیچھا کیا اور فائرنگ کے نتیجے میں ارشد شریف موقع پر جاں بحق ہوگئے جبکہ ان کا ڈرائیور زخمی ہوگیا جس نے بعد میں اسپتال پہنچ کر میڈیا کو صورتحال سے آگاہ کیا ۔
نیروبی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری طرف اس المناک واقعے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر افواہوں اور سازشی تھیوریوں کا ایک طوفان کھڑا کر دیا گیا ہے۔ اور ہر کوئی اس واقعے کو اپنی معلومات ، ذہنی استعداد اور سیاسی وابستگی کی بنیاد پر بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مقتول کی اہلیہ نے قیاس آرائیوں سے گریز کی اپیل کی ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ قبل ازیں ملنے والی اطلاعات کے مطابق ارشد شریف کے ایک ہی بھائی تھے جو 2011 میں دہشت گردی کا نشانہ بن گئے تھے تاہم اب بتایا جا رہا ہے کہ ان کا ایک بھائی خرم بھی واقعے کے وقت گاڑی میں ان کے ہمراہ تھا۔
