آئی جی اسلام آباد نے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی صالح محمد کے ساتھ عام مجرموں جیسا سلوک کرنے پر متعلقہ پولیس افسران کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا ہے ۔ واضح رہے کہ صالح محمد کو ان کے محافظوں سمیت گزشتہ روز اس وقت الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے سے حراست میں لیا گیا تھا جب ان کے ایک پولیس محافظ سے گولی چل گئی تھی۔ مذکورہ پولیس اہلکار کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے جس نے حراست میں لیے جانے کے بعد مبینہ طور پر تحریک انصاف کے حق میں نعرے بازی بھی کی اور کہا کہ وہ عمران خان کے لئے جان دے سکتا ہے ۔ ہفتے کے روز عدالت نے صالح محمد ،ان کے گن مین تصدق حسین اور شاہزیب کا جوڈیشل ریمانڈ منظور کرلیا جس کے بعد انہیں اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ مانسہرہ سے منتخب ایم این اے صالح محمد سواتی اور ان کے محافظوں کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ایم این اے صاؒح محمد کے خلاف درج ایف آئی آر کا عکس
دوران حراست پولیس نے صالح محمد کے گلے میں عام مجرموں کی طرح نیم پلیٹ ڈال کر تصاویر بنائیں جن پر جرم کی نوعیت وغیرہ درج ہوتی ہے ۔ ذرائع کے مطابق آئی جی اسلام آباد نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف انکوائری کا حکم دیا ہے ۔
