الحاق مری کے عنوان سے بیروٹ کے مقام چوریاں پر منعقد ہونے والا عوامی جرگہ کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگیا ۔ تاہم جلسے کے منتظمین نے اعلان کیا کہ وہ بیروٹ کلاں کو مری کے ساتھ ضم کرنے کی اپنی تحریک جاری رکھیں گے ۔ واضح رہے کہ مذکورہ تحریک کے سرکردہ افراد نے اعلان کیا تھا کہ جمعہ کے روز گرینڈ عوامی جرگہ منعقد ہوگا جس میں ایک طرح کا ریفرنڈم کرایا جائے گا کہ آیا بیروٹ کلاں کو مری میں ضم کرنے کی تحریک چلائی جائے یا نہیں۔
لوگوں کو جمع کرنے کے لئے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے بھرپور مہم بھی چلائی گئی تاہم اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی اور جلسے کے شرکاء کی تعداد چند درجن تک محدود رہی۔ ان میں سے بھی بعض افراد نے اختلافی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلی ترجیح کے طور پر ہمیں سرکل بکوٹ یا بیروٹ کو تحصیل بنانے کی مہم چلانی چاہیے جو قابل عمل بھی ہے ۔ تاہم الحاق مری کے حامی افراد نے اپنے موقف کے حق میں پرجوش تقاریر کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کے حامیوں کی تعداد کتنی ہی کم کیوں نہ ہو ، وہ اس تحریک کو منطقی انجام کی طرف لے کر جائیں گے ۔
اس موقع پر تحریک کے روح رواں اسد گلزرین عباسی نے شکوہ کیا کہ جو لوگ ویڈیو بیانات میں انہیں تحریک کی حمایت کی یقین دہانی کراتے رہے ہیں وہ بھی جرگے میں شرکت کے لیے نہیں آئے ، جبکہ دیگر کئی لوگوں نے اصل موقف کے بجائے تحصیل سرکل بکوٹ کا موقف دہرایا ، تاہم تحصیل کے نام پر ہم الحاق کے موقف کو دبانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
جرگے سے سابق چیئرمین یوسی بیروٹ ندیم عباسی ، طاہر امین عباسی ، وسیم عباسی، سرفراز عباسی اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔
