Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

اے شاعر لاہوتی ۔۔اس مشاعرے سے ” لیتری” اچھی

IMG 20221018 WA0165

م

کالم شالم۔۔۔۔۔۔۔شاعر انقلاب
شکیل اعوان

مشاعرہ اپنے عروج پر تھا یعنی بہ زبان ِہندکو ”کم پخے دا ہاسا “ اور شاعرانقلاب تشریف لانے کو تھے کہ ہمیں ایک مہاپٌرش ویکتی کا قول یاد آگیا کہ انسان جو چیز کھاتا ہے اٌس کا اثر صرف اٌس کی شخصیت پر ہی نہیں ہوتا بلکہ نوالے کا اثر تین نسلوں تک جاتا ہے۔ آپ بھی سوچیں گے کہ”جنڑاں“ بہت دٌور کی کوڑی کیوں لایا ہے مگر کیا کریں حقیقت سے فرار کب ممکن ہے کہ ہمارے ہاں بدقسمتی سے حلال و حرام کی تمیز کب کی ختم ہو چکی ہے۔ اب "بڑی گڈی” اور "اچی کوٹھی” کی عزت و تکریم ہے بندہ، چج اور گن گئے ٹٹھے کھوہ میں۔

بات یہ ہے کہ عرب میں انقلاب آیا تھا، وہاں کے باشندے اٌونٹ کا گوشت کھاتے تھے۔ فرانس میں انقلاب آیا تھا۔ فرانسیسی شاید "باہرلا شارلا” کھاتے ہوں گے۔ انقلاب ِایران تو ابھی کل کی بات ہے۔ وہاں کے لوگوں کے ذوق، تہذیب اور تاریخ سے کون واقف نہیں۔

ہمارے بارے میں آپ خاطر جمع رکھیں اور” کھوتے شوتے ویچ وٹا “ کر (بلکہ کئی جگہوں پر کھا کر) ”نٌکوک “ سو جائیں کہ ہم ان چند ممالک کے لوگوں میں شامل ہیں جو منج {بھینس} کا گوشت شوق سے کھاتے اور دودھ شوق سے پیتے ہیں۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ منج کی فطرت میں” آلس“ (سستی) ہے اور ”منج گتاوا “ کھا کر بیٹھنے یا لیٹنے کو ترجیح دیتی ہے۔ شاید (بلکہ یقینا) یہی وجہ ہے کہ جو لوگ” منج “ کا گوشت کھاتے اور دودھ بہ رغبت پیتے ہیں وہ ” آلسی“ ہوجاتے ہیں۔ ہم پر بھی اس خوراک کے چنگے پہلے اثرات ہیں لیکن ہم خود پر جبر کر کے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور کوئی کم شم کر لیتے ہیں اور حیرت سے اپنے گرد و پیش کو دیکھتے رہتے ہیں۔ بہ قول شاعر۔۔

ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن
اس عہد میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے

خیر شاعر انقلاب جیسے ہی سٹیج پر تشریف لائے ایک نعرہ مستانہ بلند ہوا "انقلاب زندہ باد”. شاعر انقلاب نے صاحبِ صدارت سے روایتی اجازت کا کشٹ بھی نہ کیا اور سیدھے مٌدعے پر آئے اور گویا ہوئے۔ کامریڈز ! اقبال نے فرمایا تھا

من درونِ شیشہ ہائے عصرِ حاضر دیدہ ام
آنچناں زہرے کہ از وے مارہا در پیچ و تاب
انقلاب
انقلاب، اے انقلاب

میں نے عصر حاضر کے پیالوں میں وہ زہر دیکھا ہے کہ جس کے اثر سے زہریلے سانپ بھی پیچ و تاب کھا رہے ہیں۔انقلاب
اے انقلاب، اے انقلاب

سامعین تِلملاۓ کہ ترجمہ ”سٹؔیں۔ "شاعرِانقلاب” ٹاٹرے باٹرے ہوگئے کہ کیسی محفل سخن ہے؟ کیا شعر فہمی سے عاری لوگ ہیں۔ شاعر مشرق کے شعر کا ترجمہ پوچھ رہے ہیں۔ ہم نے معاملات بگڑتے دیکھے تو دخل اندازی کی، جیسے بھٹو اور اپوزیشن کی جماعتوں میں جناب مردِ ”مچھ “ نے فرمائی تھی۔ ہم نے شاعر انقلاب سے عرض کیا

بڈیو۔۔یہ روٹی روزی کے چکر میں "حیاتی” گالنے والے لوگ ہیں۔ ان میں شعر فارسی کا ذوق کہاں سے آئے۔ اگر کچھ مسکین زبان ِاردو میں کہا ہو تو شرع ِآزرو کریں۔

انھوں نے بہ حیرت و استعجاب استفسار کیا کہ در ایں محفل "پڑھے لِخے” احباب نیست۔ ہم نے عرض کیا کہ حضور ہم اہل ِہند ہیں اور صدیوں سے حملہ آوروں کا شکار رہے ہیں۔ اس لیے آج تک تحصیل علم اور تفکر و تدبر کے بجائے زبانیں ہی سیکھ رہے ہیں۔ ایک حملہ آور کی زبان سیکھ لیتے ہیں تو اسے شکست دے کر نیا حملہ آور آن وارد ہوتا ہے۔ اور ہم پوری توجہ اور خلوص سے نئے آقا کی زبان سیکھنے میں جت جاتے ہیں۔ اب آپ ہی انصاف فرمائیں کہ ہم زبانیں سیکھیں یا علم ؟ آپ کی زبان فارسی بھی تو ہمارے گورے چٹے آقا انگریز سے پہلے والے ہمارے آقاؤں ہی کی زبان تھی۔

شاعرِ انقلاب نے” سِر تے دوئےہتھڑ “مار کر پہاڑی غزل سنانا شروع کی اور سامعین سر دٌھننے لگے بلکہ کچھ من چلے تو باقاعدہ ”کمنبر شریف مارنے لگے“۔

دل نل دل نیں تار لگی گے
درداں نیں انبار لگی گے

کیہ ہویا جے پھلاں پچھیں
کنڈے وی دو چار لگی گے

ددھ نی راخی بلے رکھے
چور یے چوکیدار لگی گے

ہم نے مشاعرے کو ”سمی میری وار “ بننے سے بر وقت روک دیا اور ناظم مشاعرہ اپنے دوست راشد عباسی سے کہا ،۔۔۔

بڈیو ! کیا تھا اگر یہاں مشاعرہ رکھنے کے بجائے ”لیتری “ {اجتماعی گھاس کٹائی } رکھ لیتے ۔ کم سے کم”منجوں“ کا بھلا ہوجاتا۔ یوں بھی مرشدی راشد عباسی اور ہمارا مشترکہ شوق ہے ”منجوں“ کے آگے بین بجانا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481