انجمن فروغ پہاڑی زبان کے زیر اہتمام پاکستان سے پہاڑی زبان میں چھپنے والا پہلا ادبی کتابی سلسلہ راشد عباسی کی ادارت میں دو سال سے باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے۔ موجودہ شمارہ اس لحاظ سے تاریخی حیثیت رکھتا ہے کہ یہ کوہسار کی علمی پہچان علامہ مضطر عباسی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے "علامہ مضطر عباسی نمبر” کے طور پر شائع کیا گیا ہے۔
شمارے کے شروع میں مدیر نے علامہ مضطر عباسی کے دیرینہ رفیق جناب امجد بٹ کا شکریہ ادا کیا ہے جن کے علمی تعاون کے بغیر اس شمارے کی اشاعت ممکن نہ تھی۔
اس شمارے میں جناب علامہ مضطر عباسی کے آٹھ مضامین شامل ہیں جن میں سے چار اردو میں ہیں تاکہ علامہ صاحب کے وہ مداح جو پہاڑی زبان نہیں جانتے وہ بھی ان کی فکر سے استفادہ کر سکیں۔ چار مضامین کو مدیر رسالہ نے پہاڑی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ ان میں درج ذیل مضامین شامل ہیں
کالج تے مدرسے ناں فرق
فضول خرچی ناں معاشی پہلو
جمہوریت کیہہ ای؟
آزادی نی ادھی صدی
جب کہ جو مضامین اردو میں شائع ہوئے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں
ابن خلدون کا نظریہ محنت
جدید استعمار
سائنس کی خلائی فتوحات
مدارس عربیہ
اس شمارے کا آغاز حمد باری تعالی سے ہوتا ہے۔ پروفیسر اشفاق کلیم عباسی کو پہاڑی زبان میں کیا ہی لاجواب حمد کہنے کی توفیق عطا ہوئی ہے۔ نعت رسول کریم کی سعادت اردو اور پنجابی کے معروف شاعر جناب قیوم طاہر کے حصے میں آئی ہے۔
بھر دے رحمت نال ایہہ خالی کاسہ میرے سائیاں
تیرے در تے آن کھلوتا ، منگتا میرے سائیاں
اس کے بعد "دو گلاں” کے عنوان سے اداریہ شامل اشاعت ہے۔ اس میں مدیر رسالہ نے بجا طور پر لکھا ہے کہ علامہ مضطر عباسی علم و شعور کے فروغ کے حوالے سے پورے کوہسار کی پہچان ہیں۔ اگر ہمیں کوہسار کو زوال کے پاتال سے نکال کر بام عروج تک پہنچانا ہے تو پھر ہمیں عہدہ و جاہ کے بجائے علم و فضل کو وجہ تکریم بنانا ہو گا۔
مدیر رنتن راشد عباسی اکادمی ادبیات پاکستان میں اردو کے ایڈیٹر اختر رضا سلیمی کو رنتن مضطر عباسی نمبر پیش کرتے ہوئے
اداریے کے بعد علامہ مضطر عباسی کی شخصیت کے حوالہ سے ان کے احباب اور تلامیذ کے مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ ان مضمون نگاروں میں محمد عرفان عباسی، پروفیسر اشفاق کلیم عباسی ، حافظ سعید احمد سعود، امجد بٹ ، راجہ عبدالرحمن ایڈووکیٹ، اسلم کھوکھر، ظہور عباسی، شکیل اعوان اور مدیر رسالہ شامل ہیں۔ علامہ کی رحلت پر لکھی گئی جناب آصف مرزا کی نظم اور احمد زمان لون کی وساطت سے کیے گئے علامہ کے انٹرویو کا کچھ حصہ بھی شامل اشاعت ہے۔
