ہری پور اور حویلیاں کے سنگم پر چمبہ پل کے مقام پر تحریک لبیک اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد پولیس اور شرکائے جلوس کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد جی ٹی روڈ میدان جنگ بن گیا۔ تصادم کے نتیجے میں 12 پولیس اہلکاروں سمیت25 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں، جبکہ صورت حال کنٹرول کرنے کے لیے فوج ، ایف سی اور رینجرز طلب کر لی گئی ہے۔
پولیس کا دعوٰی ہے کہ مظاہرین کی جانب سے پہلے شدید پتھراؤ اور فائرنگ کی گئی جس پر ہری پور پولیس نےجوابی کارروائی کی جبکہ تحریک لبیک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے پہلے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔ ۔
پولیس ترجمان کے مطابق حویلیاں پولیس کے انسپکٹر خان افسر مظاہرین کی جانب سے فائر کی گئی گولی کا نشانہ بن گئے جنہیں سر پر گولی لگی اور انہیں تشویشناک حالت میں ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد پہنچایا گیا ۔ریسکیو 1122 کی ٹیمیں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کر رہی ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق حویلیاں اور ہری پور کے سنگم پر واقع چمبہ پل پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا مرکز بنا جہاں حالات انتہائی کشیدہ ہیں ۔
عینی شاہدیں کیا کہتے ہیں؟
عینی شاہدین کے مطابق چمبہ پل پر جہاں سے حویلیاں اور ضلع ایبٹ آباد کی حدود کا آغاز ہوتا ہے تصادم اس وقت شروع ہوا جب تحریک لبیک کے جلوس نے حویلیاں میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ واضح رہے کہ پولیس نے 12 ربیع الاول کو تحریک لبیک کو جلوس نکالنے سے روک دیا تھا جس پر اتوار کے روز ٹی ایل پی کی جانب سے ہری پور سے حویلیاں تک احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا گیا تھا ۔
چمبہ کے ایک رہائشی عبدالکریم نے بتایا کہ پولییس کی جانب سے شیلنگ اس قدر شدید تھی کہ ساری فضا دھویں اور بو سے بھر گئی، جبکہ ساتھ فائرنگ کی آوازیں بھی آرہی تھیں جس سے مکینوں میں شدید خوف پھیل گیا۔ رات کے اندھیرے کی وجہ سے یہ جاننا مشکل تھا کہ کس طرف سے کیا کارروائی ہو رہی ہے۔
ایک اور عینی شاہد کے مطابق پولیس کےمتعدداہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ تحریک لبیک کارکناں کی بڑی تعداد بھی زخمی ہے۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں ایمبولینسیں بھی دیکھی گئیں ، جن میں زخمی پولیس اہلکاروں کو ہسپتال لے جایا جا رہا تھا ۔ مقامی باشندوں کے مطابق آنسو گیس کی شدیدشیلنگ کی وجہ سے گھروں میں خواتین، بچوں اور عورتوں کو شدید ترین مشکلات کا سامناکرنا پڑا۔ عینی شاہدین کے مطابق جھڑپوں کے دوران پولیس فرنٹ لائن پر مظاہرین کو روکنے کی کوشش کررہی تھی جبکہ پولیس کے بعد ایف سی اہلکار بھی موجود ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ممکنہ کشیدگی کے پیش نظر کمشنر ہزارہ نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیئے فوج کی مدد طلب کی تھی۔
تحریک لبیک کا ردعمل
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹی-ایل-پی نے واقعے کے حوالے سے ہنگامی ردعمل میں پولیس کی جانب سے میلاد شریف کے پرامن جلوس پر شیلنگ اور مبینہ فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے اگر خیبرپختونخوا حکومت نے شیلنگ بند نہ کی ملک بھر میں کال دیں گے۔ بعض اطلاعات کے مطابق چمبہ پل پر دھرنے کی بھی دھمکی دی گئی تھی۔
رات گئے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ٹی ایل پی کے مرکزی قاٸدین نے اپنے تمام کارکنوں کو پیش قدمی سے روک دیا ھے اور انہیں پپیچھے ہٹنے کی ھدایات بھی جاری کی جا رہی ہیں ۔
مرکزی قاٸدین کا کہنا ھے کہ ہمارا مقصد تصادم نہیں تھا ہم میلاد کا جلوس یہاں لے کر آۓ ہیں۔
جبکہ اطلاح یہ ہیں کے دونوں جانب کافی افراد شدید زخمی ہوۓ ہیں جن میں زیادہ تعداد ٹی ایل پی کی ھے۔
