Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ایک کلک پر30 خدمات، ”گو پنجاب“ ایپ کا آغازہو گیا

perveiz eellahi2222

وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نےہفتے کے روز  پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ میں ”گو پنجاب“ ایپ کا باقاعدہ آغاز کیا۔سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی، صوبائی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر ارسلان خالد، مشیر داخلہ عمر سرفراز چیمہ، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پرموجود تھے۔

وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے انتہائی کم وقت میں مختلف محکموں کی خدمات کی ایک ایپ بنا کر بڑا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے پہلی مرتبہ جب وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالا تو صوبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا محکمہ ہی نہیں تھا۔میں نے 2005 میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا محکمہ قائم کیا اور3 جولائی 2006 میں آئی ٹی ٹاور کا سنگ بنیاد رکھا۔جس جگہ ہم موجود ہیں یہاں پہلے سبزی منڈی تھی۔ اس جگہ پر کام کرنے والے غریب لوگوں کو دوسری جگہ شفٹ کیا اور روزگار مہیا کیا۔انہوں نے کہاکہ آئی ٹی ٹاور سے ملحقہ اراضی پر 600 بیڈز پر مشتمل ہسپتال اور ایمرجنسی بنائیں گے اور موٹروے اور رنگ روڈ پر کسی بھی حادثے کی صورت میں زخمیوں کو شفٹ کرنے کیلئے ہیلی پیڈ بنانے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔یہ ہمارے مستقبل کے منصوبے ہیں جس کا فائدہ عام آدمی کو پہنچے گا۔

انہو ں نے کہاکہ 2005 میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹ کا پراجیکٹ بھی میں نے شروع کیا۔ گاڑیوں کی نمبر پلیٹ کیلئے کیلی فورنیا سے ماڈل منگوایا۔بدقسمتی سے شہباز شریف نے آتے ہی میرے دیگر منصوبوں کی طرح آئی ٹی ٹاور پر کام بھی بند کر دیا۔اس وقت کے چیئرمین پی اینڈ ڈی سلیمان غنی نے شہباز شریف کو بتایا کہ اس منصوبے کی عمارت چینی حکومت کو ٹھیکے پر دی گئی تھی۔چینی حکومت نے اس وقت پنجاب حکومت پر کیس کیا۔شہبازشریف کی نالائقی کی وجہ سے کورٹ میں پنجاب حکومت کو 41 کروڑ روپے دینا پڑے او راس کے بعد یہ پراجیکٹ شروع ہوا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے عدالت کے ذریعے کوشش کی کہ کسی طرح 41 کروڑ روپے واپس لئے جائیں۔یہ بڑی بدقسمتی تھی کہ شہباز شریف کی وجہ سے پراجیکٹ کو روکنے سے 41 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ ”گو پنجاب“ ایپ کی سہولت سے عام آدمی کو بے پناہ فائدہ ہوگا۔خدمات کی آن لائن فراہمی سے رشوت کا خاتمہ ہوگا۔گھر میں موجود خواتین بھی ”گو پنجاب“ ایپ کی سہولت سے استفادہ کر سکیں گی۔ہماری حکومت نے ”گو پنجاب“ ایپ کے ذریعے ہر شہری اور ہر گھر کو سہولت فراہم کر دی ہے۔نجی شعبے کی خدمات کی ”گو پنجاب“ ایپ میں شمولیت سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔”گو پنجاب“ ایپ ہماری حکومت کا عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کیلئے شاندار اقدام ہے۔

انہوں نے کہاکہ قومی صحت کارڈ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا فلیگ شپ پروگرام ہے اور اس ایپ کے ذریعے قومی صحت کارڈ کی معلومات اور ہسپتالوں کی انفارمیشن بھی شہریوں کو میسر ہوگی۔ ایف آئی آر کی کاپی، گمشدگی کی رپورٹ، ای چالان کی ادائیگی گو پنجاب ایپ سے ہو سکے گی۔”گو پنجاب“ ایپ سے ٹریفک چالان کی ادائیگی، کرائے داری اور گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن ہو سکے گی۔”گو پنجاب“ ایپ سے ڈیتھ، برتھ، میرج اور طلاق سرٹیکفیٹ حاصل کیا جاسکے گا۔کاٹن فیس، پروفیشنل، ٹوکن، پراپرٹی ٹیکس، ای آکشن، گاڑیوں کی ٹرانسفر اور رجسٹریشن بھی ہو سکے گی۔ای اشٹام پیپر، فرد ملکیت اور میوٹیشن فیس کی ادائیگی بھی ”گو پنجاب“ ایپ سے ہو سکے گی۔ کاشتکار ”گو پنجاب“ ایپ کے ذریعے ای آبیانہ اور صنعت کار بزنس رجسٹریشن فیس کی ادائیگی کر سکیں گے۔”گو پنجاب“ ایپ کے ذریعے پنجاب ٹورازم کارپوریشن کے ریسٹ ہاؤسز کی بکنگ اور دیگر تفصیلات حاصل کی جاسکیں گی۔”گو پنجاب“ ایپ کے ذریعے روٹ پرمٹ فیس اور فنٹس سرٹیفکیٹ حاصل کیا جاسکے گا۔

علاوہ ازیں پرائیویٹ اسکولزکی رجسٹریشن کیلئے ”گو پنجاب“ ایپ استعمال کر سکیں گے۔پنجاب احساس راشن پروگرام کے تحت ”گو پنجاب“ ایپ پر رجسٹریشن بھی کی جاسکے گی۔”گو پنجاب“ ایپ پنجاب ہی نہیں بلکہ پاکستان کی اپنی نوعیت کی پہلی پبلک سیکٹر ایپ ہے۔”گو پنجاب“ ایپ کے ذریعے پنجاب کے لاکھوں شہری گھر بیٹھے حکومت کی طرف سے مہیا کی جانے والی سروسز سے مستفید ہو سکیں گے۔”گو پنجاب“ ایپ کی مدد سے شہریوں کا وقت اور پیسہ بچے گا اور سروس ڈلیوری بہتر ہوگی۔”گو پنجاب“ ایپ کا کارواں یہیں نہیں رکے گا بلکہ اسی ایپ کے ذریعے شہریوں کو مزید خدمات بھی فراہم کریں گے۔”گو پنجاب“ ایپ کی لانچنگ پر صوبائی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر ارسلان خالد، ڈی جی آئی ٹی فیصل یوسف اور ان کی ٹیم کو بہترین کارکردگی پر مبارکباد دیتا ہوں۔ صوبائی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر ارسلان خالدنے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے ویژن کے مطابق ٹیکنالوجی کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہمارا مشن ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481