Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پہلے پاکستانی اسپرانتو دان، علامہ مضطر عباسی کی اٹھارویں برسی

21d884d7 dfb1 48d5 8843 0dc28fcabc4e

bf2db33b aa0e 47bd 95cb 1a0ba8447defصاحب مضمون

 

دنیا کی آ سان ترین زبان اسپرانتو کو بذریعہ بی بی سی اور ریڈیو بیچنگ سیکھنے والے پہلے پاکستانی اسپرانتو دان علا مہ مضطر عباسی تھے، جنھوں نے اپنے احباب اور شاگردوں کو یہ زبان سکھا کر پورے پاکستان میں اسپرانتو گروپس قائم کیے۔ ان کے شاگرد اب بھی ہر قسم کے تعصب سے مبرا، امن وآشتی اور پیارو محبت کی یہ زبان پورے خلوص کے ساتھ سکھا رہے ہیں۔

چھبیس فروری2004ء کو آپ مسیاڑی ،تحصیل مری میں آسودہ خاک ھوئے۔۔

امسال چھبیس فروری کو اسپرانتو ہاؤس، لاہور میں احباب علامہ مضطر عباسی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ اٹھارویں برسی کے موقع پر کلمات صدارت میں ریٹائرڈ پرنسپل، ڈاکٹر امجد شاکر نے کہا کہ علامہ مضطر عباسی متنوع خوبیوں کے مالک تھے۔ وہ جامع الصفات تھے۔ آپ پیشے کے اعتبار سے استاد تھے۔ ان کا تعلیمی پس منظر دینیات اور اسلامیات کا تھا۔ ذوق کے اعتبار ر سے ماہر لسانیات تھے ۔ایم۔اے۔تاریخ میں کر رکھا تھا۔ مارکسزم اور سیاسیات کے متخصص تھے۔ قرآن مجید کے مترجم تھے۔ پاکستان میں اسپرانتو ایسوسی ایشن کے بانی تھے۔ تبلیغی جماعت سے تعلق تھا۔ ادارہ طلوع اسلام کے معتمد تھے۔ ترقی پسندوں سے گہری وابستگی تھی ۔ ملنا جلنا ان کا قادیانیوں سے بھی تھا اور ان کے بارے میں بھر پور معلومات رکھتے تھے۔ بہائیوں کی تقریب میں جانے سے بھی گریز نہیں تھا۔ مگر آ پ یہ نہیں کہہ سکتے کہ گنگا گئے تو گنگا رام اور جمنا گئے تو جمنا رام۔ وہ جہاں بھی جاتے،مضطر عباسی رھتے۔ جو کچھ بھی کرتے، مضطر عباسی نظر آتے۔ یہی ان کی انفرادیت تھی اور یہی ان کا کمال تھا۔

پروفیسر اکرم نے کہا کہ مسیاڑی تحصیل مری میں بانی تبلیغی جماعت حاجی سلیم کے گھر1926ء میں محمد طالب پیدا ھوئے۔ علم و تحقیق کے ساتھ ان کی بہت زیادہ وابستگی نے انہیں اتنا بے قرار یعنی مضطر کر دیا تھا کہ یہ ان کا تخلص نہیں رہا بلکہ ان کی ذات کا لازمہ بن کر رہ گیا اور انہوں نے شہر ت اسی نام سے پائی۔

مسز عمارہ وقار نے کہا کہ ماہ نامہ الحق، اکوڑہ خٹک اور الفاروق، کراچی نے علامہ صاحب کے تحقیقی مضامین شائع کر کے قارئین کو نہ صرف لسانیات اور نئی زبانوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا بلکہ ایسا حوالہ جاتی مواد بھی فراہم کیا ہے جو یہ ثابت کر سکے کہ یورپ کی تمام بڑی زبانیں دراصل عربی النسل الفاظ پر مبنی ہیں۔

پاکستان اسپرانتو ایسوسی ایشن کے صدر شبیر سیال ایڈووکیٹ نے کہا کہ اسپرانتو زبان کے لیے ان کی مثالی خد مات کے اعتراف میں یونیسکو کے ذیلی ادارے یو ای اے کا 2001ء میں علامہ مضطر عباسی کو اعزازی رکن منتخب کیاگیا تب یہ رکنیت 15کروڑ اسپرانتو دانوں میں سے صرف 57 لوگوں کو حاصل تھی، بھارتی اسپرانتو دان کو بھی یہ رکنیت بعد میں ملی۔

نائب صدر پاکیسا رحیم شاہ نے بتایا کہ خطبہ حجتہ الوداع کا اسپرانتو میں ترجمہ کر کے علامہ مضطر عباسی نے سو سے زیادہ ملکوں میں بھجوایا، جسے پڑھ کر لاکھوں غیر مسلم حقوق اسلامی کے اس چارٹر سے متاثر ہوئے اور سینکڑوں نے اسلام قبول کیا۔

مسز مطاہرہ ندرت نے بتایا کہ نو مسلموں نے درخواست کی کہ قرآن پاک کا اسپرانتو میں ترجمہ بھجوائیں۔ تب علامہ صاحب پی اے ایف کالج لوئر ٹوپہ میں وائس پرنسپل تھے۔ وہاں سے استعفیٰ دے کر یک سوئی سے آ پ نے قرآن مجید کا ترجمہ مکمل کیا۔

مسز بشریٰ سرفراز نے کہا کہ بغیر سرکاری امداد کے علامہ عباسی اداروں کا کام اکیلے کرگئے۔ اسپرانتو کورسز کے علاوہ انھوں نے اسپرانتو ڈکشنری بھی مرتب کی۔

اسپرانتو کلب کے سیکرٹری الطاف رؤف نے بتایا کہ بھٹو دور حکومت میں "پیپلز اوپن یونیورسٹی” اب "علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی” میں اعلیٰ عہدے پر تعیناتی اور پھر مدینہ یونیورسٹی میں پڑھانے کی علامہ مضطر عباسی کو پیشکش کی گئی لیکن انھوں نے مقامی لوگوں کو تعلیم دینے کو ترجیح دی۔ ایسے مخلص عالم فاضل کو سرکاری ایوارڈ دینے سے ایوارڈ معتبر ٹھہرے گا۔

راقم الحروف ( شاہد بخاری) نے احباب کو بتایا کہ راقم انیس سو اٹھہتر سے مری اسپرانتو کانفرنسوں میں شریک ہوتا رہا۔ راقم جس شہر میں بھی ہوتا علامہ عباسی موسم سرما میں تشریف لاتے، دو ماہ قیام کرتے اور خدمت کا موقع عنایت کرتے۔ قیام کے دوران وہ اسپرانتو کلاسز کا بھی اہتمام کرتے۔ ان کی خواہش تھی کہ سکولوں اور کالجوں میں اسپرانتو بطور اختیار ی زبان کے پڑھائی جائے تا کہ نئی نسل میں خود اعتمادی اور تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ ہو۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481