قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کی طرف سے کرارا جواب ملنے پر اینکر اور کالم نگار آفتاب اقبال دفاعی پوزیشن پر چلے گئے ۔
اگرچہ انہوں نے بابر اعظم کے حوالے سے اپنے ریمارکس پر براہ راست معذرت تو نہیں کی تاہم الفاظ کے الٹ پھیر سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ان کے ریمارکس کا غلط مطلب لیا گیا ۔
سوشل میڈیا پر بابر اعظم کے پرستاروں اور عام لوگوں کی جانب سے شدید ردعمل کے بعد اپنے تازہ پروگرام میں آفتاب اقبال نے کہا کہ وہ تو اپنے والد ظفر اقبال کو "شعرا کا بابر اعظم” کہتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے دل میں بابر کی کتنی قدر ہے؟
آفتاب اقبال کا کہنا تھا کہ وہ جب اپنی ٹیم کے کسی رکن کی تعریف کرتے ہیں تو بھی اسے بابر اعظم سے تشبیہ دیتے ہیں ۔ بابراعظم تو اتنا اچھا اوپنر ہے، کمال بیٹسمین ہے۔ میں اس کے حوالے سے منفی بات کیسے کہہ سکتا ہوں؟
واضح رہےکہ قبل ازیں آفتاب اقبال نے بابر اعظم کے حوالے سے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اب میرا کیپٹن نہیں رہا ۔ وہ مغرور ہے وغیرہ و غیرہ۔ اس کے جواب میں بابر اعظم نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران صحافی کے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ کون آفتاب اقبال میں تو نہیں جانتا ؟ پھر اس حوالے سے سوشل میڈیا پر آفتاب اقبال کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس پر وہ اپنا بیان واپس لینے پر مجبور ہوئے۔
آفتاب اقبال بابر اعظم پر تنقید سے مکر گئے
