ایبٹ آباد(نوید اکرم عباسی )ہزارہ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام ایبٹ آباد بورڈ کو پشاور ضم کرنے کے فیصلہ کے خلاف کل جماعتی گرینڈ احتجاجی مظاہرہ،صوبائی حکومت کا فیصلہ مسترد،ہزارہ کے حقوق کے لئے حریف سیاسی جماعتیں بھی ایک پلیٹ فارم پر آگئیں، حکومت کے خلاف طبل جنگ ،ختم نبوت چوک میں مطالبہ کی منظوری تک احتجاجی اور آگاہی کیمپ لگانے کا اعلان کردیا ۔پیر کے روز ایبٹ آباد فوارہ چوک میں ہزارہ قومی محاذ ،مسلم لیگ ن ،پاکستان پیپلز پارٹی ،پاکستان عوامی تحریک ،جمعیت علمائے اسلام ،جماعت اسلامی ،آل ٹریڈرز فیڈریشن ،اہلسنت والجماعت،ایبٹ آباد ڈسٹرکٹ بار ،ایبٹ آباد بورڈ کے ملازمین ،پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک ،سول سوسائٹی ،وکلاء اور مختلف مکتبہ فکر کے افراد شریک تھے۔ایبٹ آباد میں فوارہ چوک میں ہونے والے احتجاج میں ہزارہ قومی محاذ کے چیئرمین قاضی محمد اظہر ایڈووکیٹ ،وائس چیئرمین ایچ کیو ایم اسد خان جدون ،مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر ملک محبت اعوان ،ہزارہ عوامی تحریک کے ریجنل صدر نصیر خان جدون ،ایم ایم راشد اعوان ،جماعت اسلامی کے امجد خان جدون سابق تحصیل ناظم اسحاق ذکریا ،صدر ڈسٹرکٹ بار ملک امجد اعوان ،سابق صدر ہائیکورٹ بار حاجی صابر تنولی ایڈووکیٹ،صدر آل ٹریڈرز فیڈریشن سردار شاہ نواز ،جنرل سیکرٹری سجاد خان جدون اور دیگر نے احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایبٹ آباد بورڈ بورڈ کو پشاور ضم کرنے کے فیصلہ کو تسلیم نہیں کرتے ۔تحریک انصاف کی حکومت اصلاحات کے نام پر ہزارہ کے وسائل پر نظر رکھے ہوئے ہیں جب ان کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد بورڈ سمیت صوبہ بھر کے تمام بورڈز کے ملازمین کا صوبائی اسمبلی کے بائر دھرنا صوبائی حکومت کی ناکام پالیسی کے خلاف اعلان جنگ ہے ۔حکومت نے عوام کی توجہ کو تقسیم کرنے کے لئے اس طرح کے ہتھکنڈوں سے عوام کو پریشان کر رکھا ہے ۔مقررین کا کہنا تھا ایبٹ آباد بورڈ کی منتقلی کے فیصلہ کے خلاف ایبٹ آباد کی تمام سیاسی قیادت ،سول سوسائٹی ،تاجران وکلاء ایک ایجنڈہ پر متفق ہے ۔بورڈ کی منتقلی نسلوں کی بقاء کا سوال ہے۔ جس کے آگے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہونگے۔ہزارہ کے عوام کے ساتھ ناانصافیوں پر خاموش نہیں رہ سکتے ۔اس موقع پر ہزارہ قومی محاذ کے وائس چیئرمین اسد خان جدون کا کہناتھا صوبائی اسمبلی کے بائر اپنے حق کی آواز بلند کرنے پر ملازمین کو ریاستی دہشتگردی کا نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہیں ۔مرکزی چیئرمین قاضی محمد اظہر ایڈووکیٹ نے پروٹیکٹر آفس ایبٹ آباد میں بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایبٹ آباد بورڈ کو پشاور ضم کرنے کے فیصلہ کیخلاف کل جماعتی گرینڈ احتجاجی مظاہرہ
