لندن سے چوری کی گاڑی کی کراچی سے برآمدگی کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آگئیں۔کسٹمز ذرائع کے مطابق کراچی سے برآمد کی گئی کار انٹرنیشنل ریکٹ کے ذریعے پہلے کسی اور ملک پہنچی اور پھر دوسرے ملک سے گاڑی بندرگاہ کے ذریعے کراچی پہنچائی گئی۔کسٹمز ذرائع کا کہنا ہے کہ گاڑی 2019-2020 میں جعلی کاغذات پر کراچی لائی گئی، گاڑی ایک مشرقی یورپی ملک کے سفیرکے نام پرامپورٹ ہوئی، سفارتی حلقوں میں پتا چلا تو اس ملک نے اپنا سفیر واپس بلوایا اور اس کی جگہ پر خاتون سفیر کا تقرر کیا گیا۔کسٹمز ذرائع نے بتایا کہ لندن پولیس کواس گاڑی کی کراچی میں موجوگی کا پتا چلا تو پولیس نے برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کو اطلاع دی اور نیشنل کرائم ایجنسی نے کسٹمز کو ڈیفنس میں اس گاڑی کی موجودگی کا بتایا۔کسٹمز ذرائع کے مطابق کراچی:گاڑی کس گھر پر کھڑی تھی یہ کسٹمز مخبروں نے پتا لگایا۔
لندن سے چوری گاڑی کی کراچی کے گھر میں موجودگی کا پتہ کیسے لگا؟
