سوات(بیورورپورٹ)چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سوات کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔ آرمی چیف نے خواتین، بچوں، بزرگوں اور دیگر لوگوں سے ملاقات کی جنہیں آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کمراٹ اورکالام سے کانجو سوات تک ریسکیو کیا گیا۔ انہوں نے ریسکیو کئےگئے لوگوں کے ساتھ وقت گزارا جنہوں نے پاک فوج کا شکریہ ادا کیا کہ ایک بار جب انہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت پڑی تو وہ پہنچ گئے اور نہ صرف انہیں بلکہ ان کے گھر والوں کو بھی سکون پہنچایا جو ان کی بحفاظت واپسی کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ آرمی چیف نے سوات کے کالام، بحرین، خوازہ خیلہ اور مٹہ کے علاقوں سمیت مختلف مقامات پر سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور آرمی کے دستوں کی امدادی سرگرمیوں کی فضائی نگرانی بھی کی۔ آرم چیف نے بحران کے دوران موثر اور بروقت جواب دینے اور قیمتی جانیں بچانے پر پشاور کور کو سراہا۔میڈیا بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ سیلاب نے تباہی مچا دی ہے اور رہائشی عمارتوں، پلوں، ہوٹلوں اور سکولوں سمیت وسیع پیمانے پر انفراسٹرکچر کو بہا دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے تخمینے کے لیے ضلعی انتظامیہ، صوبائی حکومت اور پاکستان آرمی ایک مکمل سروے کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ دریائے سوات کے کنارے تعمیرات کی اجازت دینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بحرین سے کالام تک سڑک کو کھولنا اولین ترجیح ہے اور انہیں امید ہے کہ چھ سات دنوں میں سڑک کھل جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کے ساتھ پاک فوج کالام اور کمراٹ میں پھنسے ہوئے سیاحوں کو بچا رہی ہے اور جلد ہی ان تمام کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا جائے گا۔
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سوات کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا
