Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

24 جولائی کو بلدیاتی الیکشن ہوتا تو ایک فیصد بھی ٹرن آؤٹ نہ ہوتا: چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ

11 6

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ کا کہنا ہے اگر 24 جولائی کو بلدیاتی الیکشن ہوتے تو ٹرن آؤٹ ایک فیصد بھی نہ ہوتا۔بلدیاتی انتخابات کے جلد انعقاد سے متعلق جماعت اسلامی کے رہنما حافظ نعیم کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ احمد علی شیخ نے کی۔چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ پیشگوئی کے حساب سے 24 جولائی کو شہر میں موسلادھار بارش ہوئی، ہر طرف شور مچ رہا تھا کہ شہر ڈوب رہا ہے، اگر اسی دن الیکشن ہوتا تو ٹرن آؤٹ ایک فیصد بھی نہ ہوتا۔جسٹس احمد علی شیخ نے استفسار کیا کہ کیا آپ چاہ رہے ہیں کہ اسی دن الیکشن ہونا چاہیے تھا؟جماعت اسلامی کے وکیل زاہد خان نے کہ جو ہو گیا سو ہو گیا، 24 جولائی سے پہلے بیلٹ پیپرز ریٹرننگ افسران کو بھیج دیے گئے تھے، ان بیلٹ پیپرز کا کیا بنا کسی کو معلوم نہیں۔وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب سیاسی جماعت کے رہنما ہیں، مرتضیٰ وہاب سرکاری مشینری سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں حالانکہ مرتضیٰ وہاب سرکاری مشینری پارٹی کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔جماعت اسلامی کے وکیل زاہد خان کا کہنا تھا سندھ حکومت جان بوجھ کر حلقہ بندیوں سے متعلق معاملہ تاخیر کا شکار کر رہی ہے، بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے 120 دن میں بلدیاتی انتخابات کرانے ہوتے ہیں لیکن الیکشن کمیشن کو اس حوالے سےکوئی پرواہ نہیں ہے۔وکیل درخواست گزار نے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی انتخابات کے لیے نئے بیلٹ پیپرز چھپوائے جائیں اور مرتضیٰ وہاب کی جگہ غیر جانبدار ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا جائے۔سندھ ہائیکورٹ نے جماعت اسلامی کی درخواست پر الیکشن کمیشن، چیف سیکرٹری سندھ، سیکریٹری بلدیات اور دیگر کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481