کوہسار(رپورٹ راشد عباسی) میں لمپی سکن ڈیزیز (ایل ایس ڈی) کی روک تھام کے لیے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہکوہسار میں ایل ایس ڈی نے تباہی پھیلا دی۔ متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں بری طرح ناکام رہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب ہر علاقے میں جانور اس تباہ کن بیماری کا شکار ہو کر مرنے لگے ہیں۔متاثرین نے بتایا کہ جانوروں کی جلد پر پہلے نشانات ظاہر ہوتے ہیں۔ پھر ان میں شدت آتی ہے اور نشانات والی جگہوں پر سوراخ ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ جانور آہستہ آہستہ کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں اور پھر مستقل طور پر بیٹھ جاتے ہیں۔ابھی تک متعلقہ محکموں نے کسی قسم کا نہ کوئی سروے کیا اور نہ ہی ڈاکٹروں کی کوئی ٹیم جانوروں کے معائنے کے لیے آئی ہے۔ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت پرائیویٹ ویٹرنری ڈاکٹروں سے ہزاروں روپے خرچ کر کے علاج کروایا لیکن علاج کارگر نہیں ہو سکا ۔عوام نے وزیر اعظم ، وزیر اعلی پنجاب اور وزیر اعلی کے پی سے اپیل کی ہے کہ اس بیماری کے تدارک کے لیے ہنگامی ٹاسک فورس کی تشکیل کا حکم نامہ جاری کریں تاکہ غریب لوگ مزید نقصان سے بچ سکیں۔متاثرین نے آہ و زاری کرتے ہوئے بتایا کہ کئی خاندانوں کی گزر بسر مرنے والے جانوروں کے دودھ پر تھی۔ کئی بیواؤں اور مالی طور پر غیر مستحکم خاندانوں کے پاس کوئی ذرائع آمدنی نہیں ہیں کہ وہ نئے سرے سے جانور خرید کر اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں۔ اس لیے انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے نقصان کے ازالے کا حکم نامہ جاری کریں۔(راشد عباسی)
خطہ کوہسار میں لمپی سکن بیماری نے تباہی پھیلا دی
