کراچی( کوہسار نیوز) وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ہم نے یہ تخمینہ لگایا ہے کہ 3ہزار روپے فی دکان سے انکم اور سیلز ٹیکس عائد کیا جائے لیکن اس معاملے میں کچھ غلطی ہوئی کیونکہ ان دکانوں میں چھوٹے دکاندار بھی شامل کرلیے گئے تھے۔
پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں گھنٹہ بجاکر کاروبار کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ بجلی کے بلوں کی وصولیوں میں کمی واقع ہوئی جس کے بعد تاجروں سے دوبارہ مذاکرات کیے گئے اور پھر یہ تجویز آئی کہ 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے دکانداروں پر ٹیکس لگایا جائے اس تجویز پر بات کر رہے ہیں تاکہ ٹیکس بھی ملے اور تاجروں کو بھی پریشانی نہ ہو۔
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ کسی کو بھی نہیں پتہ تھا کہ ڈالر کتنا بڑھے گا، بینکوں پر ڈالرز پر سٹے بازی کا الزام درست نہیں ہے، ڈالر کو قابو میں لانے میں بینکوں کا کردار مثبت رہا ہے اور حکومت بینکوں کے تعاون پر شکرگزار ہے۔ مارکیٹ میں طلب رسد کے تناسب سے ڈالر کی قدر میں اتارچڑھاؤ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ چین سے قرض رول اوور ہوگئے ہیں دیگر ممالک سے بھی قرضے رول اوور ہورہے ہیں، شعبہ زراعت اور برآمدات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں اور جلد ہی برآمدی شعبے کے لیے ترغیبی اسکیم متعارف کروا دی جائے گی۔
جب اقتدار میں آئے تو نادھندگی کے بادل منڈلا رہے تھے تاہم موجودہ حکومت کی موثر حکمت عملی کی بدولت اب روز نادھندگی کے خطرات کم ہو رہے ہیں، ملک میں 30دن کے ڈیزل، 25دن کے پیٹرول اور 6ماہ کے فرنس آئل کے ذخائر موجود ہیں۔ رواں سال بجٹ خسارے پر قابو پانے کی حکمت عملی وضح کی گئی ہے کیونکہ پچھلے چار سال میں بجٹ خسارے کی اوسطاً مالیت 3500ارب روپے رہی ہے۔
دکانداروں پر انکم اور سیلز ٹیکس عائد کرنے میں کچھ غلطی ہوئی، وزیر خزانہ
