وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے قبل اراکین کے اغوا کے خدشات سے متعلق تحریک انصاف کے رہنما سبطین خان اور زینب عمیرکی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنادیا۔عدالت نے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو ارکان پنجاب اسمبلی کو تحفظ دینے اور پرامن اور شفاف الیکشن کا انعقاد یقینی بنانے کا حکم دیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ انتظامیہ کسی امیدوار کو فیور نہ دے تاکہ اراکین اسمبلی اپنی مرضی کے مطابق بلاخوف و خطر ووٹ ڈال سکیں۔ خیال رہے کہ عدالت نے پی ٹی آئی کے سبطین خان اور زینب عمیر کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عالیہ نیلم نے وکلا کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل علی ظفر نے کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے اراکین اسمبلی کو ہراساں کرنے سے روکا جائے،وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب صاف شفاف کرایا جائے، ہم چاہتےہیں پولیس اورانتظامیہ آئین کےمطابق کردارادا کرے، خدشہ ہے انتخاب سے قبل ہمارے اراکین کو اغوا کرلیا جائے گا۔واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا دوبارہ انتخاب کل پنجاب اسمبلی میں ہوگا۔ ن لیگ کی جانب سے حمزہ شہباز اور پی ٹی آئی و ق لیگ کے متفقہ امیدوار پرویز الہیٰ ہیں۔
اراکین کے اغوا کا خدشہ: لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کی درخواست پر فیصلہ سنادیا
