لاہور: وزیر داخلہ پنجاب عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں حسب معمول رونا شروع کردیا ہے، فواد چوہدری قرآن پر ہاتھ رکھ کر حلف لیں کہ میں نے کسی رکن کو چالیس کروڑ روپے کی پیش کش کی تو سیاست چھوڑ دوں گا۔
پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے اس لیے رو رہے ہیں کہ وہ پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو کو وزیر اعلیٰ نامزد کرچکے ہیں، اسی وجہ سے پی ٹی آئی کے اراکین پرویز الہیٰ کو ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں، آج ان کی پارلیمانی پارٹی میں صرف 100 اراکین آئے جبکہ ان کی تعداد 188 ہے۔
فواد چوہدری میری گرفتاری کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ ان کا خود پتہ نہیں کہ انہوں نے اگلا الیکشن کس جماعت کی ٹکٹ پر لڑنا ہے، یہ اب تک 5 جماعتیں تبدیل کر چکے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ فواد چوہدری رونا بند کر دیں۔
عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا کہ یہ اپنے چچا کے نام پر دونوں فریقین سے پیسے پکڑتے تھے، ان کی کمائی کا ایک پیسہ حلال کا نہیں ہے ، فواد چوہدری الزام لگا رہے ہیں کہ میں نے ان کے ایم پی اے چوہدری مسعود کو 40 کروڑ کی پیش کش کی جبکہ وہ تو تین اپریل 2022 کو پارٹی پالیسیوں سے تنگ آکر اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہوچکے ہیں۔
قرآن پر حلف لے کر کہتا ہوں کسی رکن اسمبلی کو چالیس کروڑ روپے کی پیش کش نہیں کی، عطا تارڑ
